اُمید ہے کہ سپریم کورٹ دفعہ 370 پر جلد از جلد سماعت کیساتھ ساتھ فوری فیصلہ بھی سنا ئے گا:عمر عبداللہ

RushdaInfotech April 28th 2022 urdu-news-paper
اُمید ہے کہ سپریم کورٹ دفعہ 370 پر  جلد از جلد سماعت کیساتھ ساتھ فوری فیصلہ بھی سنا ئے گا:عمر عبداللہ

سری نگر:27/اپریل (یو این آئی) جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدا للہ نے بدھ کے روز کہا کہ دفعہ 370 کے متعلق قانونی اور آئینی طورپر ہمارا موقف بالکل صحیح اورمضبوط ہے۔انہوں نے بتایا کہ آج کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں، آج انسان پھونک پھونک کرالفاظ استعمال کرتا ہے کہ کہیں کوئی کارروائی نہ ہو جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج اخبار والوں کو اس بات پر گرفتار کیا جارہا ہے کہ آپ حکومت کی تعریف کیوں نہیں کرتے؟ان باتوں کا اظہار موصوف نے پارٹی عہدیداران کے ایک غیر معمولی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ گرمائی تعطیلات کے بعد دفعہ370/اور 35/اے پر سماعت شروع کریں گے،ہم نہ صرف یہ اُمید کررہے ہیں کہ کیس کی جلد از جلد سماعت شروع ہوگی بلکہ فیصلہ بھی فوری طور پر سنایا جائے گا کیونکہ ہمیں پورا یقین ہے کہ قانونی اور آئینی طورپر ہمارا موقف بالکل صحیح اور مضبوط ہے۔انہوں نے کہاکہ جو ہمارے ساتھ ہو وہ نہیں ہونا چاہئے تھا، جو ہمارے ساتھ ہوا وہ غیر قانونی ہے اور غیر آئینی ہے اور اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرناہوگا۔ان کے مطابق سپریم کورٹ نے سماعت کی حامی بھر لی ہے، چلئے شکر ہے گاڑی یہاں تک تو پہنچ گئی-عمر عبداللہ اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نوجوان اکثر پوچھتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس نے کیا،کیا ہے؟ اور یہی نوجوان آج کے حالات سے پریشان ہے، یہ نوجوان اس لئے پریشان ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس نے جو حاصل کیا تھا وہ اس سے چھینا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر ہم نے جموں وکشمیر کے لئے کچھ حاصل نہیں کیا ہوتا تو 5/اگست 2019 کو ہماری زندگیوں میں کوئی بدلانہیں آیا ہوتا،لیکن بدلا آیا۔ اگر نقصان ہوا، تو وہ نقصان اس کا ہوا جو نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر کیلئے حاصل کیا تھا اور جو ہم سے چھیناگیا ہم اس کو واپس لانے کیلئے لڑ رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہآج بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے،ان لوگوں (مرکز)نے کس چیز میں جموں وکشمیر میں انصاف کیا؟ یہ لوگ گذشتہ3سال سے اعلانات اور دعوے کررہے ہیں کہ یہاں کے نوجوانوں کی ترقی ہی ترقی ہوگی، ہمیں خدارا دکھائے کہ نوجوانوں کی کون سے ترقی ہوئی؟آج ہمارا نوجوان بے روزگاری، بے چینی، غیر یقینیت اور لاچاری کے بھنور میں مبتلا ہوکر رہ گیا ہے۔عمر کے مطابق کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں، آج انسان پھونک پھونک الفاظ استعمال کرتا ہے کہ کہیں کوئی کارروائی نہ ہوئے جائے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ریسرچ سکالر کو 11سال پہلے کی بات پر قید کیا گیا ہے۔ 2011 میں ایک ریسرچ سکالر نے پیپر لکھا تھا اور آج پولیس نے اس کیخلاف کارروائی کی ہے۔ اگر2011میں اس پیپر سے لوگوں پر اثر نہیں پڑا تو خدارا بتائے کہ آج کیا اثر پڑے گا؟ یہ کیسے کہا جاسکتاہے کہ مذکورہ شخص ماحول بگاڑ رہا ہے؟


Recent Post

Popular Links