ہندوستان میں امیر غریب کے فرق میں زبردست اضافہ کورونادورمیں ارب پتیوں کی تعداد 102سے بڑھ کر 142ہو گئی ملک کے 84فیصد خاندانوں کی آمدنی گھٹی،98خاندانوں کی کل دولت حکومت ہند کے کل بجٹ کا تقریباً 41فیصد

RushdaInfotech January 18th 2022 urdu-news-paper
ہندوستان میں امیر غریب کے فرق میں زبردست اضافہ کورونادورمیں ارب پتیوں کی تعداد 102سے بڑھ کر 142ہو گئی ملک کے 84فیصد خاندانوں کی آمدنی گھٹی،98خاندانوں کی کل دولت حکومت ہند کے کل بجٹ کا تقریباً 41فیصد

نئی دہلی:17جنوری(ایجنسی)کورونا وبا کے دوران جہاں ایک طرف ملک میں غریبوں کے سامنے کھانے پینے کا بحران تھا وہیں دوسری جانب اس دوران ملک میں ارب پتی امیروں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔این جی او آکسفیم انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، جہاں 2021میں ہندوستان کے 84فیصد گھرانوں کی آمدنی میں کمی آئی، وہیں ہندوستانی ارب پتیوں کی تعداد 102سے بڑھ کر 142ہو گئی۔آج ورلڈ اکنامک فورم 2022کا پہلا دن ہے۔ اس موقع پر آکسفیم انڈیا نے سالانہ عدم مساوات کا سروے جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق کورونا کے دوران ہندوستانی ارب پتیوں کی کل دولت دوگنی ہوگئی ہے۔ ان کی دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٹاپ 10/امیروں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ اگلے 25سال تک ملک کے تمام اسکول اور کالج چلا سکتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے عدم مساوات اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ملک کے 10فیصدامیر ترین افراد کے پاس ملک کی 45فیصددولت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی 50 فیصدغریب آبادی کے پاس صرف 6 فیصددولت ہے۔اقتصادی عدم مساوات کی اس رپورٹ کے مطابق ملک کے 142/ارب پتیوں کی کل دولت 719بلین ڈالر یعنی 53لاکھ کروڑ روپے ہے۔ 98/امیر ترین لوگوں کے پاس 555کروڑ غریبوں کے برابر دولت ہے۔ یہ تقریباً 657بلین ڈالر یعنی 49لاکھ کروڑ روپے ہے۔ ان 98خاندانوں کی کل دولت حکومت ہند کے کل بجٹ کا تقریباً 41فیصد ہے۔
84 سال تک روزانہ 7.4 کروڑ روپے خرچ کر سکتے ہیں ٖ:رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ہندوستان کے ٹاپ 10 امیر روزانہ کی بنیاد پر 10 لاکھ ڈالر یا 7.4 کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں تو بھی ان کی دولت خرچ ہونے میں 84 سال لگیں گے۔ دوسری طرف اگر ملک کے امیروں پر ویلتھ ٹیکس لگایا جائے تو 78.3 بلین ڈالر یعنی 5.8 لاکھ کروڑ روپے اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ اس رقم سے حکومت کا ہیلتھ بجٹ 271 فیصد بڑھ سکتا ہے۔


Recent Post

Popular Links