ہندوستان:حراستی اموات میں مسلسل اضافہ-گجرات پہلے اور یوپی دوسرے نمبر پر

RushdaInfotech November 29th 2021 urdu-news-paper
ہندوستان:حراستی اموات میں مسلسل اضافہ-گجرات پہلے اور یوپی دوسرے نمبر پر

نئی دہلی-28نومبر(ایجنسی)ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بھارت میں حراستی قوانین کی صریح خلاف ورزی عام بات ہے- بیشتر پولیس افسر قیدیوں پر تشدد کو جائز سمجھتے ہیں - دوسری طرف حراستی اموات میں مسلسل اضافے سے عام شہری اور قانون دان دونوں ہی فکر مند ہیں -گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت میں پولیس حراست میں 1888/افراد کی اموات ہوگئیں - ان اموات کیلئے پولیس اہلکاروں کے خلاف893کیس درج کیے گئے لیکن صرف 358پولیس افسروں اور دیگر پولیس اہلکاروں کو باضابطہ ملزم قرار دیا گیاسرکاری ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ ان کیسوں میں صرف 26پولیس اہلکاروں کو قصوروارٹھہرایا گیا-سرکاری اعدادو شمار کے مطابق2020میں پولیس حراست میں 76/ افراد کی موت ہوگئی- ان میں سب سے زیادہ15حراستی اموات وزیر اعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں ہوئیں - بی جے پی کی حکومت والی اترپردیش دوسرے نمبر پر رہی- گزشتہ برس حراستی اموات کیلئے ایک بھی پولیس افسر یا اہلکار پر عائد الزامات ثابت نہیں ہوسکے-حراستی اموات کے خلاف مہم چلانے والی تنظیم نیشنل کمپین اگینسٹ ٹارچر (این سی اے ٹی) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019میں ہر روز اوسطاً کم ازکم پانچ افراد کی حراست کے دوران اموات ہوئیں - این سی اے ٹی کے مطابق حراستی اموات کے حالات اس سے کہیں زیادہ بدتر ہیں جتنے سرکاری اعدادو شمارمیں بتائے گئے ہیں - این سی اے ٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت میں جرائم کا سرکاری ریکارڈ رکھنے والا ادارہ گزشتہ20برس میں حراستی اموات کی جتنی تعداد بتاتا ہے اتنی تو صرف 2019میں ہوئیں -


Recent Post

Popular Links