ملک میں دوطرح کے ہندو ہیں ایک جومندرجاسکتے ہیں اور جو مندر نہیں جا سکتے: میراکمار

RushdaInfotech November 29th 2021 urdu-news-paper
ملک میں دوطرح کے ہندو ہیں  ایک جومندرجاسکتے ہیں اور جو مندر نہیں جا سکتے: میراکمار

نئی دہلی-28نومبر(ایجنسی)لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے جمعہ کو یہاں ایک پرو گرام کے دوران اپنے دل کا درد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی کے بھارت میں بھی ذات پات کا سسٹم قائم ہے -ملک میں دو طرح کے ہندو ہیں ایک وہ جو مندر جاسکتے ہیں دوسرے وہ جو مندر نہیں جا سکتے-انہوں نے انکشاف کیا کیا کہ بہت سے لوگوں نے ذات پات کی بنیاد پر بھید بھاؤ کے چلتے ان کے والد بابو جگ جیون رام سے ہندو دھرم چھوڑنے کیلئے کہا تھا کیونکہ ان کو اکثر نسلی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا -ان کا جواب ہوتا کہ وہ مذہب تو نہیں چھوڑیں گے مگر اس سسٹم کے خلاف لڑیں گے کیونکہ مذہب بدلنے سے ذات کا ٹھپہ ختم نہیں ہوتا - راجندر بھون میں منعقد اس پروگرام میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش کی ایک کتاب کا اجرا ہوا -میرا کمار نے کہا کہ ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہیں ہمارے پاس چمچماتی سڑکیں ہیں بہت سے لوگ ان پر چلتے ہیں وہ آج بھی کا سٹ سسٹم سے متاثر ہیں سوال یہ ہے کہ ہمارا ذہن کب چمکے گا ہم کب اپنی اپنی ذات پر مبنی ذہنیت کے خول سے باہر آئیں گے؟میرا کمار نے بتایا کہ مندر جاتے وقت پجاریوں نے اکثر ان کا گوتر پو چھا -ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہماری سنسکرتی تکثیری ہے- ہم سب اپنی زندگی میں مختلف مذاہب سے اچھی باتیں سیکھتے ہیں -جے رام رمیش میں نے اس موقع پر گوتم بدھ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بودھ نے برہمن وادی قدامت پسندی کو چیلنج کیا تھا اور کئی سوشیل ریفارمرس نے ان کے اس رنگ کو دیکھا جو انقلابی ہے، جبکہ ایک نظریہ نے ان کا صرف روحانی پہلو دیکھا-انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوؤں نے اپنے مفاد کیلئے بدھ دھرم کو ہڑپ لیا تھا-


Recent Post

Popular Links