تین طلاق پر بورڈ مقدمہ ہارانہیں سرکار کی نیت ہی خراب تھی

RushdaInfotech November 29th 2021 urdu-news-paper
تین طلاق پر بورڈ مقدمہ ہارانہیں   سرکار کی نیت ہی خراب تھی

نئی دہلی-28نومبر(ایجنسی)مسلم پرسنل لا بورڈ کے نومنتخب جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے دعویٰ کیا کہ تمام مسلمان بورڈ کے پیچھے کھڑے ہیں اور اسے مسلم عوام کی تائید و حمایت حاصل ہے، انہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ بورڈ کو بابری مسجد اور تین طلاق کیس میں ہار ہوئی ان کا کہنا ہے کو بورڈ نے اپنا موقف مضبوطی اور استدلال کے ساتھ رکھا مگر حکومت کی نیت ہی خراب تھی- مولانا رحمانی نے ایک خاص گفتگو میں یہ بات کہی -اس سوال پر کہ مودی سرکار آنے کے بعد بورڈ کو کئی معاملوں میں شکست کا منھ دیکھنا پڑا انہوں نے پرزور انداز میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد مسئلہ ہو یا تین طلاق گرچہ فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا لیکن بورڈ نے پوری طاقت سے مقدمہ لڑا-بابری مسجد پر بھلے ہی فیصلہ مسلمانوں کے خلاف آیا لیکن سپریم کورٹ نے مانا کہ وہاں مسجد توڑی گئی،مندر توڑ کر مسجد بنانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا،اسی لیے تو دوسری جگہ مسجد بنانے کیلئے جگہ دی گئی، مولانا نے تین طلاق پر عدالتی ہار کی بات کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کے موقف کو ملت کی تائید حاصل رہی دراصل سرکار کی نیت ہی خراب تھی،اس نے سیاسی مقاصد کیلئے اس کے خلاف قانون بنایا،اس سے حکومت کے مزاج کا پتہ چلتا ہے،یہ بات قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے بورڈ کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے تین طلاق کے خلاف فیصلہ دیا اور مودی سرکارنے اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں بل پیش کیا اور اسے منظور کرایا- ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل اور جماعتوں میں اختلاف پر ان کا کہناتھا کہ بورڈ1973میں اس کے قیام کے آغاز سے ایک ہی طریقہ کار پر گامزن ہے ہم اسے مزید فعال بنائیں گے،ہمارا مستقبل محفوظ و روشن ہے،بس ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے-بورڈ کی ریاستی شاخوں کے قیام پر جنرل سکریٹری نے کہا کہ یہ ممکن نہیں -یہ بورڈ کی بنیادی پالیسی کے خلاف ہے،اس سے بورڈ میں شامل جماعتوں میں ٹکراؤ کا اندیشہ ہے-بورڈ مختلف مسالک کا پلیٹ فارم ہے یہ بڑا فیض ہے-عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے، حکومت کیا پالیسی و قانون بناتی ہے یہ ہمارے اختیار میں نہیں لیکن شریعت پر عمل تو ہمارے اختیار میں ہے ہم اپنی زندگی میں اس پر عمل کریں -مولانا نے یقین دلایا کہ دہلی میں بورڈ کا دفتر اور فعال و متحرک ہوگا آپ جلد ہی کچھ نمایاں تبدیلیاں دیکھیں گے،انہوں نے غیر مسلم لڑکوں سے مسلم لڑکیوں کی شادیوں پرسخت تشویش ظاہر کی انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے صحیح یا غلط ہونے کا معیار نہیں یہ حقیقت نظر میں رکھنی چاہیے-


Recent Post

Popular Links