ہندوستان میں کورونا کا بحران تقریباً ختم،ماہرین نے تیسری لہرکا امکان مستردکیا

RushdaInfotech November 24th 2021 urdu-news-paper
ہندوستان میں کورونا کا بحران تقریباً ختم،ماہرین نے تیسری لہرکا امکان مستردکیا

نئی دہلی-23 نومبر(ایجنسی) ہندوستان میں کورونا وائرس کی پہلی اوردوسری لہر کے دوران بحران کی جو کیفیت پیدا ہوئی تھی،تیسری لہر کے دوران ایسی ممکنہ کیفیت کو ماہرین نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے کیسسز زیادہ تر ملک کے سرد علاقوں تک ہی محدود رہ سکتے ہیں - احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ دسمبر کے اواخر سے لے کر فروری تک کورونا کی کیسوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوگا لیکن اس قدر ہزاروں کی تعداد میں قطعاً نہیں جیسا کہ دوسری لہر کے دوران دیکھا گیا - ملک میں کورونا ٹیکہ کاری مہم کو موثر قرار دیتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اکتوبراور نومبر کے دوران تہواروں کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے باوجود ملک میں کورونا کیسس اگر قابو میں ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ملک پر اب کورونا کا خطرہ ٹل گیا ہے - ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آئے ہوئے تقریباً دوسال کے عرصے کے بعد منگل کو 543 واں دن تھا جب سب سے کم کورونا کیسس 7579 سامنے آئے-گذشتہ 46 دنوں سے ملک بھر میں روزانہ کے اعتبار سے کورونا کے نئے کیسس 20ہزار سے کم سامنے آرہے ہیں - ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ویکسی نیشن کی رفتار کو اگر اور بڑھایا جائے تو آنے والے دنوں میں سردی کے باوجود بھی کورونا کی رفتار کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے -دوسری لہر کے دوران کورونا کی جو ڈیلٹا قسم سامنے آئی اس کے نتیجے میں کافی جانی نقصان سامنے آیا لیکن اب ان لوگوں کیلئے جنہوں نے کورونا کی کم از کم ایک خوراک لے رکھی ہے ڈیلٹا کا اثر نہیں ہوگا- کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ زیادہ تر شہری علاقوں میں ہے- انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ آئی سی ایم آر کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی 67.6 فیصد آبادی ایسی ہے جو اب کورونا کے نئے اقسام کا مقابلہ کرنے کی قوت مدافعت رکھتی ہے -سرکاری عہدیداروں کے مطابق ملک کی 82 فیصد آبادی میں کورونا کا پہلا ٹیکہ لگوایا ہے جبکہ 43 فیصد آبادی دونوں ٹیکے لگوائے جاچکے ہیں -حالانکہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں کورونا کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ انہی علاقوں تک محدود رہ سکتا ہے -


Recent Post

Popular Links