قوم کو احسان فراموش نہیں احسان شناس ہونا چاہئے:مولانا مقصود عمران آشیانہ اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام این جی اوز کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد

RushdaInfotech November 22nd 2021 urdu-news-paper
قوم کو احسان فراموش نہیں احسان شناس ہونا چاہئے:مولانا مقصود عمران آشیانہ اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام این جی اوز کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد

بنگلور۔21/نومبر(راست)آج کے اس پرآشوب دور میں ہم کو سوچنا چاہئے کہ آخر ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں اور ہمیں کیا کرنا ہے۔ایک دوسرے سے جڑ کر اتحاد کے ساتھ معاشرہ میں بسے کمزوروں کی مدد کرنی چاہئے اور غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور معذوروں کی مدد کرنی چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ قوم خود کو بدلنے کا ارادہ نہ کرلے۔ ان خیالات کا اظہار آشیانہ اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے دفتر میں منعقدہ کرناٹک کے ضلعی سطح کے این جی اوز کی کانفرنس ”ہماری مشکلات اور ان کا حل“سے خطاب کرتے ہوئے مولانا مقصود عمران رشادی خطیب وامام جامع مسجد سٹی نے کیا۔مولانا نے کہا کہ اگر آپ کی وجہ سے قوم کا ایک فرد بھی جاگتا ہے تو یہ کارخیر اور عبادت ہے۔انہوں نے کہا کہ این جی اوز میں کام کرنے سے پہلے نیک نیت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ کوئی کام کرنے کے بعد اسے یو ٹیوب یا سوشیل میڈیا پر پوسٹ کردینے سے سماجی خدمات کا مقصد پورا نہیں ہوتا۔نیت درست ہونی چاہئے اور مختصر سی زندگی میں کیا کرسکے اس کا محاسبہ ہونا چاہئے۔این جی اوز کے لئے سب سے پہلے رابطہ بہت ضروری ہے۔ ایک دوسرے سے جڑنااور مل کر کام کرنا چاہئے۔یہ نہیں ہونا چاہئے کہ میرے ادارے میں کام ہورہا ہے تو دوسروں کے اداروں کا نہ ہو۔یہ حسد اور بغض ہے اس سے دور رہنا چاہئے۔ضروری ہے کہ این جی اوز ایک دوسرے کی بات سنیں۔اگر ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم دعا کردی جائے -مولانا ذوالفقار رضا نوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ غریبوں کی مدد کرنا، انہیں کھلانا یہ سب سنت رسولؐ ہے۔آج ڈاکٹر فاروق آشیانہ ادارہ کے ذریعہ اسی سنت پر عمل کررہے ہیں۔انسان کو بے سہاروں کی مدد کرنا چاہئے۔ انسانیت کی مدد کرنا چاہئے-مولانا عبدالقدیر مدنی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرے گا وہ کامیاب ہے۔اگر کامیابی چاہئے تو قرآن کے مطابق چلنا پڑے گا-انہوں نے کہا کہ حضورؐ کے زمانے میں مسجد سے پہلے ایک مرکز بنا جسے دارالارقم کہتے ہیں۔یہاں سے بھلائی فلاحی کام انجام دئے جاتے تھے۔اس زمانے میں جو کام انجام دئے گئے آج کا عشر عشیر بھی ہم نہیں کرپارہے ہیں۔سماج میں لوگوں کو جوڑنے کا کام این جی اوز کرتے ہیں۔کونسلنگ کرنا،مہمان نوازی اور دوسروں کا بوجھ اٹھانا یہ سب سنت رسولؐ ہیں - انہوں نے کہا کہ تین باتوں کا خیال رکھاجائے۔امت کو جوڑنا، اقتصادی بحران اور عالمی صحت۔ان تینوں امور پر توجہ دیں تو معاشرے میں خوشحالی اور بہتری لائی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر محمد فاروق نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی سطح کے این جی اوز کو جوڑکر ہم ایک دوسرے کے ساتھ ٹائی اپ کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ادارے جو معاشی طور پر کمزور ہیں ان کا ساتھ دیا جائے اور انہیں خدمت کا بھرپور موقع ملے -انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب مل کر اپنے آپسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہوجائیں۔کیونکہ برادران وطن ہم سے بہت آگے ہیں۔ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ علمائے کرام ایک پلاٹ فارم پر آئیں اور اپنے مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوجائیں -ڈاکٹر محمد سعید،ایفا فاؤنڈیشن کے محمد ساجد اور عنایت اللہ خان نے بھی خطاب کرتے ہوئے این جی اوز کی اہمیت اور افادیت اور اس کے فعال بنانے پر خطاب کیا۔سہیل نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ظہرانہ کے بعد کانفرنس کا دوسرا سیشن شروع ہوا جس میں تمام این جی اوز کے ذمہ داروں نے اپنا تعارف پیش کیا او راپنے مسائل پیش کئے۔ بروز پیر 22/نومبر کانفرنس کا اختتامی سیشن منعقد ہوگا


Recent Post

Popular Links