جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت کانپور میں دوروزہ 27/ویں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں مولانا رابع حسنی ندوی کا خطاب

RushdaInfotech November 21st 2021 urdu-news-paper
جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت  کانپور میں دوروزہ 27/ویں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں مولانا رابع حسنی ندوی کا خطاب

کانپور۔20/نومبر (راست) موجودہ دور میں ہندوستانی مسلمان جن خطرات سے گزر رہے ہیں وہ قابل فکر ہے۔ ان کا صحیح جائزہ لینا پھر ان کے لحاظ سے طریقہئ کار اور وسائل اختیار کرنا وقت کی سخت ضرورت ہے۔ امت کے نوجوانوں کو اپنے اکثر علاقوں میں جس صورت حال کا سامنا ہے اس میں ان کے اسلامی عقیدہ وکردار کو چیلنج کا سابقہ ہے۔ اس چیلنج کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کا کامیاب طریقے سے مقابلہ کرنے میں جو کوتاہی ہورہی ہے اس کے نتیجہ میں امت کے نوجوانوں کا ایمان و اسلامی اقدار پر قائم رہنا کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے یوپی کے ضلع کانپور میں منعقدہ دو روزہ (20-21نومبر) 27/ویں اجلاس آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں بحیثیت صدر کیا جو 2018کے بعد یعنی ساڑھے تین سال بعد منعقد ہورہا ہے۔اس اجلاس میں جمعیت علماء کے صدر مولانا ارشد مدنی،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے علاوہ دیگر کارکنان نے شرکت کی۔ انہوں نے کہاکہ شریعت مطہرہ کی اہمیت کو خود سمجھتے اور مانتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم غیروں کو بھی اس کی اہمیت بتائیں کہ اسلامی شریعت آسمانی احکام پر مشتمل ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے ساتھ عائلی معاملات جو پرسنل لاء کے نام سے موسوم ہیں ان کے علاوہ دیگر متعلقہ ذمہ داریوں کے سلسلے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں امت کے افراد کی ایک تعداد اپنا اسلامی تشخص کھوتی جارہی ہے۔ دنیا کے موجودہ مادہ پرستانہ ماحول میں امت کے افراد کے دین وایمان کو جوسنگین خطرہ پیش آرہا ہے اس کو ہمارے دانشور اور اہل فکر کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے کہاکہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور اقلیت جہاں بھی ہو اس کو اکثریت کے مقابلے میں زیادہ فکر و توجہ اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے بہت سے مسائل ہوش کی جگہ جوش آجانے کی بنا پر خراب ہوئے اور ناکامی ہاتھ لگی۔ بہت سے مواقع پر جو کوشش خاموشی کے ساتھ ہوسکتی ہو وہ اعلان و تشہیرکے ساتھ کرنے میں نقصان رساں ہوجاتی ہے اس کے لئے حکمت عملی کو بنیاد بنانا چاہئے اور حکمت اختیارکرنے کی ہم کو ہمارے دین کی طرف سے تاکید ملی ہے۔


Recent Post

Popular Links