جرمنی کا اعتراف،لاؤڈاسپیکر پر اذان مذہبی آزادی کا حصہ

RushdaInfotech November 18th 2021 urdu-news-paper
جرمنی کا اعتراف،لاؤڈاسپیکر پر اذان مذہبی آزادی کا حصہ

برلن-17نومبر(ایجنسی)چانسلر میرکل کی طرح جرمنی کی بڑی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو سے تعلق رکھنے والے ہیلگے براؤن نے جرمن ٹی وی چینل بلڈ لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اذان دینا آزادی سے اپنے مذہب کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا حصہ ہے- سی ڈی یو کی جانب سے جرمنی میں گزشتہ پارلیمانی انتخابات کے دوران آرمین لاشیٹ کو چانسلر کے عہدے کیلئے امیدوار منتخب کیا گیا تھا- تاہم الیکشن میں سی ڈی یو کی شکست کے بعد اب ہیلگے براؤن اس پارٹی کے سربراہی کیلئے بھی امیدوار ہیں -جرمنی میں اب تک صرف چند درجن مسلم برادریاں ہی ایسی ہیں، جہاں مساجد میں جمعہ کی نماز کیلئے لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دینے کی اجازت ہے- حال ہی میں شہر کولون میں ایسے ہی ایک پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا- لیکن کئی شہری حلقے ایسے بھی ہیں، جو نہیں چاہتے کہ مقامی مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دی جائے- یوں یہ منصوبہ دراصل ایک سماجی بحث کی وجہ بھی بن گیا ہے- ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف ایک مذہبی برادری کو لاؤڈ اسپیکروں پر اذان کی اجازت دے دینا اس اقلیت کو دیگر مذہبی اقلیتوں پر ترجیح دینے کے مترادف ہے- ایک سروے کے مطابق75فیصد جرمن شہری مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دیے جانے کے خلاف ہیں - کولون شہر میں اکتوبر سے شروع ہونے والے پائلٹ پروجیکٹ کی مدت دو سال ہے اور اس دوران مساجد میں صرف جمعے کی نماز سے پہلے اور مخصوص شرائط کے تحت ہی لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی جا سکتی ہے- شروع میں یہ اجازت صرف چند مساجد کو دی گئی تھی لیکن اب اسی شہر میں مزید کئی مساجد کی طرف سے بھی ایسے اجازت ناموں کیلئے درخواستیں دے دی گئی ہیں -


Recent Post

Popular Links