غداروطن اورUAPAکو ختم کردینا چاہئے: جسٹس نریمن

RushdaInfotech October 14th 2021 urdu-news-paper
غداروطن اورUAPAکو ختم کردینا چاہئے: جسٹس نریمن

نئی دہلی:13/اکتوبر(یجنسی)سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس روہنٹن نریمن نے گزشتہ اتوارکو کہا کہ سپریم کورٹ کو سیڈیشن قانون اور یو اے پی اے کو رد کردینا چاہیے تاکہ ملک کے لوگ کھلے میں سانس لے سکیں۔لائیولاکے مطابق جسٹس روہنٹن نریمن نے کہاکہ میں سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ معاملے کو سرکار کے پاس واپس نہ بھیجیں۔ سرکاریں آئیں گی اور جائیں گی اور قوانین میں ترمیم یااس کو رد کرنا سرکار کا کام نہیں ہے۔سپریم کورٹ کے سامنے یہ معاملہ آیا ہے اور عدالت اپنے اختیارات کا استعمال کرکے دفعہ124 / اے (سیڈیشن) اور یو اے پی اے کی خلاف ورزی کرنے والی دفعات کو رد کرے، تاکہ ملک کے لوگ زیادہ آزادی سے سانس لے سکیں۔سابق جج نے کہا کہ ایسا کرنے کے بعد شاید تب ہندوستان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 180میں سے 142ویں رینک سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیڈیشن قانون ایک نوآبادیاتی قانون ہے اوراسے ہندوستانیوں، بالخصوص مجاہدین آزادی پر ظلم کرنے کیلئے لایا گیا تھا۔ سابق جج نے کہا کہ اس کا آج بھی غلط استعمال ہو رہا ہے۔ جسٹس نریمن آنجہانی وشوناتھ پسایت کی109ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ایک پروگرام میں بول رہے تھے۔انہوں نے اپنی تقریرمیں اس سال کے نوبل امن ایوارڈ کا بھی ذکر کیا،جسے دوصحافیوں ماریا ریسا (فلپائن) اور دمترے مراٹوو(روس)کو بولنے اور اظہار رائے کی آزادی کے میدان میں مسلسل کام کرنے کیلئے دیا گیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود ہندوستان ورلڈپریس فریڈم کی رینکنگ میں پیچھے ہے۔ جسٹس نریمن نے کہا کہ ایسا ان پرانے اورجابرانہ قوانین کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ جسٹس نریمن نے کہا کہ اصل آئی پی سی میں سیڈیشن کا اہتمام نہیں تھا، لیکن یہ ڈرافٹ میں ضرور تھا۔بار اینڈ بنچ کے مطابق انہوں نے کہاکہ سیڈیشن کا اہتمام ڈرافٹ میں تھا، نہ کہ قانون میں۔ بعد میں اس کا پتہ لگایا گیا اور اسے پھر سے ڈرافٹ کیا گیا۔اسے لے کر کہا گیا تھا کہ یہ دفعہ غلطی سے چھوٹ گئی تھی۔ اس کے لفظ بھی غیرواضح تھے۔ 124/اے کے تحت سزا بہت بڑی تھی، کیونکہ اس میں عمر قید اور تین سال کی قید کا اہتمام کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یو اے پی اے کی تاریخ کا پتہ چین اور پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی جنگوں سے لگایا جا سکتا ہے۔سابق جج نے کہاکہ ہماری چین اور پاکستان کے ساتھ جنگ ہوئی تھی۔اس کے بعد ہم نے یو اے پی اے ایکٹ پیش کیا۔ یو اے پی اے ایک سخت ایکٹ ہے، کیونکہ اس میں کوئی پیشگی ضمانت نہیں ہے اور اس میں کم ازکم پانچ سال کی قید ہے۔ یہ ایکٹ ابھی جانچ کے دائرے میں نہیں ہے۔ اسے بھی سیڈیشن قانون کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ان کی وجہ سے بولنے کی آزادی پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔اگر آپ ان قوانین کے تحت صحافیوں سمیت تمام لوگوں کو گرفتار کر رہے ہیں، تو لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہہ پائیں گے۔


Recent Post

Popular Links