نئی قومی تعلیمی پالیسی بچوں کے حق میں موت کافرمان ہے آنگن واڑی ملازمین کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے مقررین کااظہارخیال

RushdaInfotech October 5th 2021 urdu-news-paper
نئی قومی تعلیمی پالیسی بچوں کے حق میں موت کافرمان ہے  آنگن واڑی ملازمین کے زیراہتمام منعقدہ تقریب سے مقررین کااظہارخیال

بنگلور۔4اکتوبر(سالارنیوز)نئی قومی تعلیمی پالیسی(این ای پی)کے ذریعہ بچوں کی ترقی کے لیے تشکیل شدہ انٹی گریٹڈچائلڈ ڈیولپمنٹ سرویس (آئی سی ڈی ایس)کے مقاصدکوپوری نظراندازکرتے ہوئے طلبہ کے حق میں موت کافرمان جاری کیاگیاہے۔یہ گمبھیرالزام جنوادی مہیلاتنظیم کی نائب صدرکے ایس وملانے عائدکیاہے۔ بروز اتوار پیلس روڈپرواقع اسکاؤٹ اینڈگائڈس آڈیٹوریم میں کرناٹک آنگن واڑی کارکنان کی جانب سے ”نئی قومی تعلیمی اورآنگن واڑی مراکزپرہونے والے اثرات“ جیسے عنوان پرخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آنگن واڑی مراکزآئی سی ڈی ایس اسکیم کے تحت دوران حمل سے لیکر بچے اسکول جانے تک بچوں کوپال پوستے ہیں۔ بچے اسکول جانے تک دباؤ والے تعلیمی نظام سے دوررکھتے ہوئے غیررسمی تعلیم دیتے ہیں۔ا سکے علاوہ دیہی علاقوں کے عوام کے آنگن واڑی مراکزکے ذریعہ بہت ساری سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔مگراین ای پی نظام تعلیم کے ذریعہ پری پرائمری تعلیم کے نام مذکورہ تمام سہولتیں چھین لی جارہی ہیں۔انہوں نے مرکزی حکومت کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ سب کاساتھ سب کاوکاس کہتے ہوئے بر سراقتدار آنے والے جمہوریت کی ساری بنیادی ہلارہے ہیں۔آزادی کاامرت مہوتسوکے نام ہندوستان کی جشن آزادی منانے والی مرکزی حکومت صرف اشتہارات کے لیے پیسہ پانی کی طرح بہارہی ہے جبکہ اب تک ایساکوئی بھی ترقی پسند کام نہیں کیاگیا۔اجلاس سے ادیب ڈاکٹروڈگیرے ناگراجیانے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کرناٹک این ای پی کاشکارہونے والی ملک کی پہلی ریاست بن گئی ہے۔نئی قومی تعلیمی پالیسی 400 سے زائدصفحات پرمشتمل ہے جوصرف انگلش اورہندی زبان میں ہے،اس میں سے صرف 60صفحات پرمشتمل تمہیدی باتوں کوملک کی 21زبانوں میں ترجمہ کرکے پیش کیاگیاہے۔جب معاملہ ایساہے تو ہم کیسے مان جائیں کہ این ای پی عوامی بحث کے لیے پیش کرنے کے بعدجاری کیاگیاہے۔کرناٹک آنگن واڑی ملازمین اسوسی ایشن کی صدرایس ورلکشمی نے کہاکہ جب حکومت نے آئی سی ڈی ایس اسکیم کونجی اداروں کوسونپنے یاپنچایتوں کے حوالے کرنے کی بات کی ہم نے اس کی مخالفت کی تھی۔اب نئی قومی تعلیمی پالیسی 1974کے چلڈرن نیشنل پالیسی،1975کی آئی سی ڈی ایس اسکیم،2002کی اقوام متحدہ کی پوشن اسکیم،اور2013کی بچوں کی قومی پالیسی میں طے شدہ اہداف کے خلاف ہے اس لیے ہم این ای پی کی مخالفت کررہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ آنگن واڑی مراکز بچوں کی صحت،تعلیم اورنگہداشت کی ذمہ داری اداکرتے ہوئے 40سال سے خدمات انجام دیتے آرہے ہیں۔این ای پی جاری کرنے کے لیے حکومت ٹاسک فورس تشکیل دے رہی ہے اس میں کوئی ماہرین تعلیم یاماہراطفال نہیں ہے،ایسی ٹاسک فورس کی رپورٹ سے تعلیمی نظام درہم برہم ہوسکتاہے۔


Recent Post

Popular Links