تمام ترسرگرمیاں شروع ہونے کے بعد نائٹ کرفیوکیوں برقرارہے؟ شہرکی رات کی زندگی کوباندھ کررکھنے سے تاجروں اورعام لوگوں کوپریشانی

RushdaInfotech October 5th 2021 urdu-news-paper
تمام ترسرگرمیاں شروع ہونے کے بعد نائٹ کرفیوکیوں برقرارہے؟ شہرکی رات کی زندگی کوباندھ کررکھنے سے تاجروں اورعام لوگوں کوپریشانی

بنگلور۔4اکتوبر(سالارنیوز)شہربنگلورمیں اب کووڈ زیرقابوہے،معمولات زندگی بحال ہورہے ہیں۔ اسکول، کالجوں،عبادت گاہیں،مالز، تھیٹروں،باراینڈ ریسٹورانوں سمیت تقریباًشعبوں کوکھولنے کی اجازت حکومت سے دے دی گئی ہے۔لیکن تمام سرگرمیوں کی اجازت دینے کے باوجودنائٹ کرفیوجیسے کووڈضابطہ کواب تک برقرار رکھا گیاہے۔اس طرح حکومت نے شہرکی راتوں کونائٹ کرفیوسے باندھ رکھاہے۔اس قسم کی چہ میگوئیاں عوامی حلقوں میں سنی جارہی ہیں۔یہ اصراربھی ہورہاہے کہ نائٹ کرفیو میں نرمی یااس کومکمل طورپرہٹادیا جائے۔ کووڈکے نازک اورحساس دنو ں میں نائٹ کرفیوضروری تھی،سرکاری احکام پرعوام کوعمل کرنابھی ضروری ہے، مگراب حالات معمول پرآرہے ہیں تواس کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے۔شہرکی ساری آف لائن سرگرمیاں شروع ہونے کے بعدان سرگرمیوں کومزید فروغ دینے کے لیے تحدیدات سے رکاوٹیں کھڑی ہورہی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں نائٹ کرفیوایک غیرضروری کووڈ ضابطہ بناہواہے۔سیاحتی سرگرمیاں،ہوٹل صنعتوں، انڈسٹریل شعبہ،پبلک ٹرانسپورٹ ودیگربہت ساری سرگرمیوں کیلئے نائٹ کرفیو راست اوربلاراست رکاوٹ بنا ہواہے،اس سے مالی اقتصادی طورپربھی مشکل کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ شہری ٹرانسپورٹ کی سرگرمیاں رات بھرچلتی رہی ہیں،اورمیٹرو سرویس رات 12بجے تک جار ی رہتی تھیں اب10بجے تک میٹروسرویس محدودکردی گئی ہے۔ جس کی وجہ متوسط اورغریب افرادٹرانسپورٹ کی مشکلوں سے دوچار ہیں۔ رات کی شفٹ مکمل کرکے اپنے گھروں کوجانے والے،بس اورریلوں کے ذریعہ بیرون شہراورریاستوں سے رات 10بجے کے بعد شہر پہنچنے والے مسافروں کیلئے سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ نہایت ضروری۔ شہری حدود میں وسعت آگئی ہے،ایک مقام سے دوسرے مقام پہنچنے کے لیے میٹروسرویس شروع کرنے کی ضرورت ہے،سرکاری سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ گاڑیوں کومنہ مانگی رقم دیکراپنے اپنے مقام جانا پڑرہا ہے۔ اس کے علاوہ ہوٹلوں کے لیے نائٹ کرفیوسے پریشانی کاسامناہے۔رات 8بجے سے 12بجے تک ہوٹلوں، ریسٹورانوں کے لیے پرائم ٹائم ماناجاتاہے،دن کااکثر کاروباراسی مدت میں چلتاہے،اس لیے رات 11:30 بجے تک نائٹ کرفیومیں نرمی لانے کی ضرورت ہے۔ہوٹل صنعت سے جڑے افرادنے اس قسم کامطالبہ حکومت سے کیاہے۔رات 9:30بجے سے کرفیوجاری ہونے کی وجہ سے رات 9بجے سے کاروبارسمٹنے لگتاہے،تھوڑابھی زیادہ وقت ہوتاہے تواس کااثرغریب اورمتوسط طبقہ پرپڑتا ہے، وقت پربندنہ کرنے کی وجہ سے بہت سارے صنعتوں اور صنعتکاروں کے خلاف شکایات درج ہوئی ہیں۔بنگلورجیسے میٹروپولٹین شہرمیں شام6بجے سے رات 12بجے تک تقریباً 40 فیصدتجارتی سرگرمیاں چلتی ہیں، حکومت اس جانب توجہ دیتے ہوئے نائٹ کرفیومیں نرمی لائے۔ بنگلورکے تقریباً70 فیصدعلاقے رہائشی اورتجارتی علاقوں پر مشتمل ہیں، ایسے مقامات پرموجودہوٹل،بار، ریسٹوراں اورپب میں رات 8بجے کے بعدہی لوگ اپنے کنبہ کے ساتھ آتے ہیں۔شہرکی رات کی زندگی رات 1:30بجے تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ان تمام امورکوپیش نظررکھتے ہوئے حکومت کوچاہئے کہ وہ نائٹ کرفیو میں نرمی لائے یااسے مکمل طورپراٹھادے۔ریاستی وزیرداخلہ ارگاگیا نیندرنے سے جب اس بارے میں سوال کیاگیاتوانہوں نے کہاکہ ریاستی ٹیکنیکی صلاح کارکمیٹی کی سفارش کی بنیادپررات 10بجے سے صبح 5بجے تک نائٹ کرفیونافذکی گئی ہے۔بہت جلدریاستی وزیراعلیٰ بسوراج بومئی کے ساتھ میٹنگ ہونے والی ہے اس میں نائٹ کرفیوکے بارے میں حتمی فیصلہ کاجائے گا۔


Recent Post

Popular Links