ملک بھر میں لڑکیوں پر ہورہے مظالم کیخلاف سخت قوانین بنائے جائیں:کلپناکیرتی

RushdaInfotech September 21st 2021 urdu-news-paper
ملک بھر میں لڑکیوں پر ہورہے  مظالم کیخلاف سخت قوانین بنائے جائیں:کلپناکیرتی

سکلیش پور:20ستمبر(جمیل احمد۔نامہ نگار)عصمت دری کے خلاف سخت قوانین بنانے تمام سیاسی پارٹیوں،حکومتوں اور اعلیٰ افسروں کی توجہ ضروری ہے۔ یہ گذارش مہیلا مارگادرشی اسوسی ایشن کی صدر کلپناکیرتی نے کی ہے۔انہوں نے آج یہاں ٹاؤن کے ٹراولرس بنگلہ میں طلب کردہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حالیہ دنوں میسور میں ایک طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کی گئی،جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔خواتین پر ہونے والے مظالم اور عصمت دری کے خلاف سخت قوانین بنائے جانے کی ضرورت ہے۔اس کیلئے حکمران پارٹی کے ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بھی جدوجہد کرنی ہوگی۔ لڑکیوں کو صرف جنسی ہوس کا نشانہ بنایاجارہاہے،ایسے سماج کی تعمیر کی ضرورت ہے،جس میں مرد، عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔لڑکی کے کپڑوں اور چال چلن سے اس طرح کے معاملات پیش آنے کے الزام میں کوئی سچائی نہیں ہے، پہلے عورت کے تعلق سے اپنی سوچ بدلنی ہوگی اور لڑکیوں کے تحفظ کوممکن بنانا ہوگا۔ لڑکیوں کی حفاظت کیلئے خود نوجوانوں کو ہی آگے آناہوگا ایسا ماحول قائم ہوا تو عین ممکن ہے کہ لڑکیاں ہر جگہ بغیر خو ف کے گھوم سکیں گی۔لیڈی ڈاکٹر عالیہ نے کہاکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر دن 80معاملات لڑکیوں کی عصمت دری کے پیش آرہے ہیں،مگر افسوس کہ ملک میں پیش آرہے اس طرح کے معاملا ت صرف 10ہی منظرعام پر آرہے ہیں اور پولیس میں شکایت درج کی جارہی ہے، بقیہ معاملات وہیں بند کردئے جارہے ہیں۔ملک کے عوام اور حکمرانوں کو چاہئے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور ایسے معاملات کے خلاف سخت قوانین جاری کرنے کی جانب توجہ دیں۔انہوں نے تفصیل پیش کرتے ہوئے کہاکہ عصمت دری کے معاملات میں ملوث افراد یاتو دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں،نزدیکی جان پہچان کے ہوتے ہیں۔سماج میں لڑکیوں کو تحفظ فراہم ہوایسے ماحول کی ضرورت ہے۔اس موقع پر نندنی شری کانت،منجولا دشیانت،شائلجاپالکشااور دیگر موجود تھے۔


Recent Post

Popular Links