کائنات ادب بنگلور کے زیر اہتمام”تعلیم کی اہمیت“ پر سمینار اور ایوارڈ تقریب کا انعقاد

RushdaInfotech August 28th 2021 urdu-news-paper
کائنات ادب بنگلور کے زیر اہتمام”تعلیم کی اہمیت“ پر سمینار اور ایوارڈ تقریب کا انعقاد

بنگلورو۔27/اگست (سالارنیوز) علوم کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا۔ریاضی اور سائنس پڑھ لینے سے موجودہ دور کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔اس کے لئے تاریخ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔ان ؔخیالات کا اظہار کائنات ادب بنگلور کے زیر اہتمام چہارشنبہ کو ہوٹل امپیریل میں منعقدہ ”تعلیم کی اہمیت“ کے سیمینار اور ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر ڈاکٹرکے رحمن خان نے کیا۔ انہوں نے کہاکہ انفرادی کامیابی اگر اجتماعی کامیابی کی ضامن ہوجا ئے تو ہم بحیثیت قوم کامیاب کہلائیں ؔ گے۔انہوں نے کہاکہ آج کی جنریشن کو صحیح سمت کا تعین کرنا چاہئے،جس کے لئے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔علمائے کرام، دانشوروں، رہبروں کو مل بیٹھ کر قوم کے مستقبل کی راہ متعین کرنی چاہئے۔مولانا آزاد کے نظریات کو اپنا کر آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ آزاد کی دور اندیشی ایسی ہے کہ انہوں نے جو پیشن گوئیاؔں کیں وہ بتدریج سچ ثابت ہوئیں ۔اس موقع پر رحمن خان نے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کے مجموعہ کلام ”ساز وطن“ کا ہندی ترجمہ کا بھی اجراء کیا۔مہمان خصوصی بیک ورڈ کلاسس ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری ٹو گورنمنٹ محمد محسن آئی اے ایس نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم کوابھی بھی تعلیم کی طرف بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر گھر کا بچہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے۔اس کے علاوہ کئی شعبے ہیں جس پر توجہ دینے کی ضر ورت ہے۔اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس محمد سجاد خان نے کہا کہ بچوں کی پڑھائی پر دھیان دینے کی بہت ضرورت ہے۔ریان ایجوکیشنل سوسائٹی آف انڈیا کے چیرمین حیدر علی خان نے کہا کہ ملت کے تعلیمی اداروں کی آبیاری اپنے خون پسینے سے ہمارے بزرگوں نے سینچا ہے۔اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ کی زمین کے ساتھ جو ہوا ہے وہ افسوس ناک ہے۔ نئے ادارے قائم کرنے کے بجائے موجودہ اداروں کے ممبر بن کر ان کو مستحکم بنایا جائے۔ تعلیمی ادارے ہی نہیں رہیں گے تو ہمارے بچوں کو تعلیم کے لئے غیروں کے اداروں کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔ملت کے مخیر حضرات، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دانشوروں کو ان اداروں کی سرپرستی کرنی چاہئے اور انہیں ختم ہونے سے بچانا چاہئے۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مولانا شمیم سالک نے کہا کہ آج جن احباب کو ایوارڈ دیا گیا وہ تعلیم سے بحرہ ور ہیں۔انہوں نے سینکڑوں ہزاروں شاگردوں کی زندگی بنائی ہے۔ایسے لوگوں کو منتخب کرکے انہیں اعزاز دینے کا کام قابل ستائش ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کا موضوع ہمارے لئے ہمیشہ تازہ رہے گا۔ کیونکہ ہر کوئی اپنی اولاد کو تعلیم سے مالامال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعزاز یافتگان کو اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔ڈاکٹر محمدفاروق نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔مولانا تبارک رشیدی کی قرأت سے پروگرام کا آغاز ہوا۔حافظ سید تبریز نے نعت پیش کی۔عنایت اللہ خان نے استقبالیہ پیش کیا اور سہیل نظامی نے نظامت اور شکریہ کے فرائض انجام دئے۔اعزاز یافتہ گان میں پروفیسر صبیحہ زبیر، پروفیسر محمد جاوید، پروفیسر ایم اشرف علی، پروفیسر محمد تعزیر احمد،پروفیسر سلیم پاشاہ، پروفیسر ؔمحمداعظم شاہد، پروفیسر عبدالرؤف اور پروفیسرسلام مشیر(بعداز مرگ) شامل رہے۔اس کے علاوہ صحافت میں شرف الدین سید،سید عبدالکریم(آواز کرناٹک) سالار یو ٹیوب چینل(صبیحہ فاطمہ، دردانہ سمرن)،اسپورٹس میں سید فواد اللہ، سماجی خدمات میں شافعہ فاروق، الوریٰ آصف، سید عرفان احمد، سید منصور، ڈاکٹر محمد حسین، ریاض ا حمد،شاہ موسیٰ، محمد پیارے جان، محمد اسلم(سنگر)شامل رہے۔


Recent Post

Popular Links