اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی زمین سنگھ پریوار کے اشارے پر خالی کروائی گئی ادارے کے حق میں زمین منظور کرنے کے واضح احکامات کو حکومت نے کیوں نظر انداز کردیا؟

RushdaInfotech August 24th 2021 urdu-news-paper
اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی زمین سنگھ پریوار کے اشارے پر خالی کروائی گئی ادارے کے حق میں زمین منظور کرنے کے واضح احکامات کو حکومت نے کیوں نظر انداز کردیا؟

شہر بنگلورو کے معروف ٹیکنیکل تعلیمی ادارے اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی زمین پر حال ہی میں سرکاری قبضہ کے الزامات کے سلسلہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاستی حکومت نے سنگھ پریوار کے شدید دباؤ میں آ کر اس زمین کو خالی کروایا۔ یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ بنرگھٹہ روڈ پر موجود میناکشی مندر کے بالکل روبرو موجود اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا کیمپس کچھ عناصر کی آنکھو میں کھٹکنے لگا تھا۔ ان عناصر کے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک کر حکومت نے اس کیمپس کی زمین کو اکوائر کرنے کی کارروائی کی۔اس انسٹی ٹیوٹ کے انتظامیہ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کالج کا کیمپس چونکہ میناکشی مندر کے بالکل روبرو موجود ہے، سنگھ پریوار کے کارندوں کو یہ بات کافی دنوں سے ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ ان لوگوں نے بتایا کہ اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ پر سرکاری زمین پر قبضہ کے جو الزامات تھے ان کو برسوں پہلے ہی واپس لے لیا گیا، اس کے باوجود ایک غیر ضروری تنازعہ کھڑا کیا گیا۔یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جو زمین حکومت نے اکوائر کی ہے، اسے سنگھ پریوار سے وابستہ کسی ادارے کے حق میں منظور کرنے کے لئے حکومت کی طرف سے منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔جیسے ہی اس ادارے پر سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کرنے کا الزام واپس لے لیا گیا اس زمین کے لئے ادارے کے نام پر کھاتہ بنوانے کی کوشش ہونی چاہئے تھی، لیکن ادارے میں داخلی خلفشار کے سبب ایسا نہیں ہو سکا۔ اس کمزوری کا فائدے اٹھاتے ہوئے سنگھ پریوار سے جڑے عناصر نے اس ادارے کی زمین کو نشانہ بنایا اور زمین پر اس کے قبضہ کو غیر قانونی قرار دے کر اسے خالی کروانے کے لئے حکومت پر دباؤ بنانا شروع کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامیہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے حق میں اس زمین کو منظور کئے جانے کا اعلان حکومت نے مورخہ 27جنوری 1988کے گیزیٹ کے ذریعہ بھی کیا ہے جس کا نمبر LAQ(2)SR1681/1988ہے، اس گیزیٹ کے بعد حکومت نے ادارے کو زمین خریدنے کی اجازت بھی دی ہے۔ حکومت کی طرف سے کالج کی عمارت کی تعمیر کے لئے باضابطہ نو آبجیکشن سرٹی فکیٹ بھی دی گئی۔ اس کی بنیاد پر 1978میں انجینئرنگ کالج،1979میں ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ اور 1982میں اسلامیہ لاء کالج کا آٹھ ایکڑ اراضی پر مشتمل کیمپس میں قیام عمل میں لایا گیا۔ زمین منظور کرنے کے احکامات موجود ہونے کے باوجود اس کے انتظامیہ میں شامل افراد کے اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالف عناصر نے بڑھ چڑھ کر اس معاملہ کو اس قدر طول دیا کہ حال ہی میں عدالت نے بھی ایسا فیصلہ سنایا کہ اس زمین پر انسٹی ٹیوٹ کا قبضہ غیر قانونی ہے۔ اس سے پہلے کہ معاملہ کو مکمل طور پر نپٹایا جاتا اور منتظمین کی طرف سے اس سلسلہ میں عدالت میں حلف نامہ دائر کیا جاتا ضلعی انتظامیہ نے پولیس کی مدد سے زمین پر قبضہ کرلیا۔


Recent Post

Popular Links