کووِڈسے مرنے والوں کو کندھا دے کر مسلمانوں نے انسانیت نوازی کی بہترین مثال قائم کی ہے کورونا وارئیرس کی تہنیتی تقریب میں کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار کے تاثرات، امیر شریعت کی طرف سے بھی خراج تحسین

RushdaInfotech August 23rd 2021 urdu-news-paper
کووِڈسے مرنے والوں کو کندھا دے کر مسلمانوں نے انسانیت نوازی کی بہترین مثال قائم کی ہے کورونا وارئیرس کی تہنیتی تقریب میں کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار کے تاثرات، امیر شریعت کی طرف سے بھی خراج تحسین

بنگلورو۔22/اگست(سالار نیوز)کورونا وائرس کی مہلک وباء سے مرنے والوں کی لاشوں کواپنی جان کی پروا کئے بغیر کاندھا دینا اور ان کی آخری رسومات ادا کرنے کی خدمت انجام دے کر کرناٹک کے مسلمانوں نے دنیا کو بتا دیا ہے کہ مذہب اسلام کس قدر انسانیت نواز ہے۔ ان خیالات کا اظہار کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے کیا۔ اتوار کے روز کے پی سی سی کے کارگزار صدر سلیم احمد کی طرف سے کورونا وارئیرس کی تہنیت کے لئے منعقدہ ایک تقریب میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی او ر موت کی کشمکش کے درمیان دوسروں کی مدد کے لئے کیا کرتے ہیں وہ اہم ترین ہے۔ موت کے خوف کی پروا کئے بغیر کورونا وارئیرس نے جس بے لوث جذبے کے ساتھ عوام کی بلا لحاظ مذہب، ذات پات جو خدمت کی ہے اس کا جس قدر بھی اکرام کیا جائے کم ہے۔ بنگلورو ساؤتھ کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ کا نام لئے بغیر شیو کمار نے کہا کہ کسی رکن پارلیمان نے ایک مخصوص طبقہ کو پنکچر والا اور جاہل قرار دیا۔ گاڑی اگر پنکچر ہو جائے تو اس پنکچر والے کی مدد کے بغیر آگے بڑھناممکن نہیں۔ کسی پیشہ کی تذلیل نہیں کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ چامراج نگر میں آکسیجن کی قلت سے جن36لوگوں کی موت ہوئی ان کے خاندانوں کو خود انہوں نے ایک ایک لاکھ روپے پارٹی کی طرف سے مہیا کروائے، جبکہ ریاستی حکومت کی طرف سے اب تک ان خاندانوں کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ شیو کمار نے کہا کہ ان پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو وہ اپنا بھائی مانتے ہیں،انہیں خوشامد کرنے کی کیا ضرورت ہے، ا ن سے بہتر تعلقات رکھنے میں کسی کو اعتراض کیوں ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب مرنے والے ہزاروں افراد کی لاشوں کو مسلمانوں نے کندھا دیا اور ان کی آخری رسومات مرنے والے کے مذہب کی روایتوں کے مطابق انجام دیں، اس سے بڑھ کر انسانیت اور کیا ہو نی چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں پر سوال اٹھانے والے کسی رہنما نے کبھی کسی کورونا سے مرنے والے کی لاش کو کندھا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کورونا واریئر س کی دوسری لہر جب شباب پر تھی اس وقت چامراج نگر ضلع میں آکسیجن کی قلت سے 36افراد کی موت ہوئی۔ کورونا وائرس کے سبب اب تک ریاست میں 4لاکھ سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں میں بستر میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں اموات ہو گئی ہیں، لیکن ریاستی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔ حکومت کی طرف سے کورونا کا شکار ہونے والوں کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف اس خوف سے کہ متاثرین کو معاوضہ دینا پڑے گا حکومت نے کورونا اموات کا سارا حساب کتاب ہی غائب کردیا ہے۔ ایک طرف گجرات میں حکومت نے تمام ٹیکس معاف کردئیے ہیں تو دوسری طرف کرناٹک میں بی جے پی حکومت دوگنا ٹیکس وصول کررہی ہے۔امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد خان رشادی نے اپنے خطاب میں کورونا کے سبب مرنے والوں کی مغفرت کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مرحلہ میں جبکہ پورے ملک میں پریشانی ہے نوجوان کورونا متاثرین اور مرنے والوں کی خدمات میں برابر لگے رہے، ان کی قربانیاں قابل تحسین ہیں۔مولانا مقصود عمران رشادی خطیب وامام جامع مسجد نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کے علاج میں لگے ڈاکٹرس اور نرسوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپنی جان کی پرواکئے بغیر ان لوگوں نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ قابل رشک ہیں۔کے پی سی سی کارگزار صدر سلیم احمد نے اس موقع پر مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور اجلاس کے مقاصد بیان کئے۔ بنگلورو کی52تنظیموں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہروں کے دوران ان کی طرف سے انجام دی گئی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔ اس تقریب میں اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس بھاسکر راؤ،رکن کونسل نارائین سوامی،سابق رکن کونسل گوند راج، ڈاکٹر انجنپا، منصور علی خان، ایس آر مہروز خان، سید شاہد احمد،سلیمان خان، آصف حیات اور دیگر موجود تھے۔


Recent Post

Popular Links