بیلگاوی میں سیلاب سے 1200کروڑر وپے کا نقصان متاثرین کو ہر ممکن مدد دی جائے گی: ضلع کے مختلف مقامات کے معائنہ کے بعدایڈی یورپاکی یقین دہانی

RushdaInfotech July 26th 2021 urdu-news-paper
بیلگاوی میں سیلاب سے 1200کروڑر وپے کا نقصان  متاثرین کو ہر ممکن مدد دی جائے گی: ضلع کے مختلف مقامات کے معائنہ کے بعدایڈی یورپاکی یقین دہانی

بنگلورو۔25جولائی(سالار نیوز)وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے اتوار کی صبح بیلگاوی ضلع کے سیلاب سے متاثر علاقوں کا دور ہ کیا اور یہاں کے متاثرین کو ہرممکن مدد کا یقین دلایا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر متاثرہ عوام کو مدد فراہم کرنے کے لئے مناسب قدم اٹھائے جائیں۔ اگر فنڈس کی ضرورت ہو تو اس سے حکومت کو آگاہ کروایا جائے۔ ضلع کے منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع بھر میں سیلاب کی صورتحال دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں جس سے سیلاب کی صورتحال اور خراب ہوتی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضلع کے 113دیہات زیر آب آ چکے ہیں۔اس موقع پر وزیر محصولات آ ر اشوک نے کہا کہ سیلاب کے دوران فوری طور پر درکار اناج اور دواؤں کی فراہمی کے لئے ضروری قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ این ڈی آر ایف کے علاوہ ضلع میں مدد کے لئے دیگر ذرائع سے بھی فنڈس فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب کی وجہ سے جہاں بھی مویشیوں کی موت ہوئی ہے اس کی نشاندہی کر کے ان کے مالکان کو معاوضہ جلد دینے کی ضلع کے افسروں کو ہدایت دی گئی ہے۔نائب وزیر اعلیٰ گوند کارجول نے بتایا کہ آلمٹی آبی ذخیرہ میں 72ٹی ایم سی فیٹ پانی جمع ہو گیا ہے داخلی بہاؤ کا معائنہ کرنے کے بعد اس سے پانی باہر کی طرف بہانے کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ بیلگاوی میں گزشتہ چند دنوں سے بارش اور سیلاب کی وجہ سے 1200کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے فوری طور پر 170کروڑ روپے فراہم کرنے کا مطالبہ پیش کیا گیا۔ افسروں نے بتایا کہ ضلع میں 1400کلو میٹر کی سڑکوں کو بارش کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ 305پل بارش کی وجہ سے کمزور پڑ گئے ہیں۔ضلع کے ہکیری تعلقہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقہ کادورہ کرنے کے بعد اخباری نمائندو ں سے بات کرتے ہوئے ایڈی یورپا نے کہا کہ تعلقہ کے سنکیشور علاقہ میں ہر سال سیلاب کی وجہ سے جو تباہی مچ رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے حکومت نے طے کیا ہے کہ 50ایکڑ زمین کی نشاندہی کر کے اس علاقہ میں آباد لوگوں کومستقل طور پر منتقل کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقے کو منتقل کرنے کے لئے زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے صرف مکانات کی تعمیر کا کام کرنے کے لئے منظوری دینا باقی ہے جو جلد ہی دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب اور موسلادھار بارش کی وجہ سے جو نقصانات ہوئے ہیں ان کا سروے کرنے کے لئے حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دے دی ہے۔ سروے رپورٹ ملتے ہی معاوضہ کا اعلان کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متاثرین کی فوری مدد کے لئے حکومت نے جو عارضی راحت مراکز قائم کئے ہیں وہاں کھانے اور پانی کی سہولت مہیا کروائی گئی ہے۔ایڈی یورپا نے کہا کہ بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد سرکاری افسران گھر گھر جاکر معائنہ کریں گے اور ان کی طرف سے جو رپورٹ حکومت کو روانہ کی جائے گی اس کی بنیاد پر معاوضہ طے کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر سیلاب متاثرین کو یقین دلایا کہ ان کو مصیبت سے نکالنے کے لئے حکومت ہر ممکن تعاون دے گی۔ اس موقع پر ضلع کے ڈپٹی کمشنر ایم جی ہیرے مٹھ نے بتایا کہ ضلع میں بارش اور سیلاب کی وجہ سے 630خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ پانچ راحت کاری مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر نائب وزرائے اعلیٰ گوند کارجول، لکشمن ساودی، وزیر محصولات آر اشوک، وزیر شہری رسدامیش کتی اور دیگر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے اس کے بعد سیلاب سے متاثر ہ مزید علاقوں کا دور ہ جاری رکھا۔


Recent Post

Popular Links