مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب کسان تحریک کے دوران68کسانوں کی موت،ہریانہ حکومت کااعتراف

RushdaInfotech July 26th 2021 urdu-news-paper
مودی حکومت کا جھوٹ بے نقاب کسان تحریک کے دوران68کسانوں کی موت،ہریانہ حکومت کااعتراف

نئی دہلی-25جولائی(ایجنسی) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران مرکز کی مودی حکومت نے کہا ہے کہ کسان تحریک میں ہلاک ہونے والے کسانوں کے حوالہ سے اعدادوشمار اس کے پاس موجود نہیں ہیں - وہیں ہریانہ کی بی جے پی حکومت نے اسمبلی میں اعتراف کیا ہے کہ کسان تحریک کے دوران68کسانوں کی موت واقع ہوئی ہے- جان گنوانے والے کسانوں میں سے21ہریانہ کے جبکہ بقیہ47پنجاب کے رہائشی بتائے گئے ہیں - اس کے علاوہ مودی حکومت کا یہ بیان بھی جھوٹا ثابت ہوا کہ کسی بھی ریاست میں آکسیجن کی کمی کے سبب ایک بھی موت درج نہیں ہے-خیال رہے کہ راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں جمعہ کے روز مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا تھا کہ کسان تحریک میں مرنے والے کسانوں کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے- جبکہ ہریانہ حکومت نے اسمبلی میں تحریری طور پر قبول کیا ہے کہ کسان تحریک میں شرکت کرنے والے68کسان فوت ہوئے ہیں -
حالانکہ حکومت نے اپنی ذمہ داری سے بچنے کیلئے یہ بھی کہا ہے کہ68میں سے51/ افراد کی موت خرابی صحت کی وجہ سے جبکہ 15/ افراد کی موت سڑک حادثہ میں اور2/ افراد کی جان خودکشی کی وجہ سے گئی ہے-اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے اسمبلی میں یہ واضح کیا ہے کہ مہلوک کسانوں کو شہید کا درجہ دینے یا ان کسانوں کے اہل خانہ کو سرکاری نوکری فراہم کرنے کی کوئی تجویز ان کے پاس زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کی مالی اعانت کیے جانے کا کوئی منصوبہ ہے-کانگریس کے رکن اسمبلی آفتاب احمد اور اندو راج نروال کے سوالوں کے جواب میں وزیر داخلہ انل وج نے یہ معلومات اسمبلی کو تحریری طور پر فراہم کیں - ہریانہ حکومت کی جانب سے مارچ میں گزشتہ بجٹ اجلاس کے دوران پیش کی گئی تفصیل کے بعد مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کا راجیہ سبھا میں دیا گیا جواب جھوٹا ثابت ہوتا ہے-


Recent Post

Popular Links