لبرلائزیشن کے 30 سال: چدمبرم کا مودی حکومت پر نشانہ ’امیروں کیلئے الگ اور دوسرے شہریوں کیلئے الگ نظام ناقابل قبول‘

RushdaInfotech July 26th 2021 urdu-news-paper
لبرلائزیشن کے 30 سال: چدمبرم کا مودی حکومت پر نشانہ  ’امیروں کیلئے الگ اور دوسرے شہریوں کیلئے الگ نظام ناقابل قبول‘

نئی دہلی-25جولائی(ایجنسی)سابق وزیر مالیات پی چدمبرم نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنا ہوگا اور انہیں نئی شکل دینی ہوگی، تبھی حالات بہتر ہوں گے- چدمبرم نے ان خیالات کا اظہار لبرلائیزیشن (آزاد خیالی) کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے گفتگو کے دوران کیا-سال1991میں جب معاشی آزاد خیالی کی راہ اختیار کی گئی تھی اس وقت پی چدمبرم مرکز میں وزیر تجارت کا قلمدان سنبھال رہے تھے- انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کو پٹری پر لائے بغیر ملک اور عوام کا بھلا نہیں ہو سکے گا- نیز اس وقت غریب اور متوسط طبقہ بحران سے دوچار ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ نئی معاشی پالیسیوں کو متعارف کرائیں -انہوں نے کہا کہ بلاشبہ، صورت حال پر از سر نو غور کرنے اور این ڈی اے حکومت کی جانب سے اختیار کی جا رہی معاشی پالیسیوں میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے- حکومت نے جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرح نمو کو8فیصد سے گھٹا کر منفی4.5فیصد تک پہنچا دیا- یہ انتہائی خراب صورت حال ہے- روزگار، آمدنی، مزدوری، گھریلو بچت اور کھپت کو حد درجہ متاثر کرنے والی موجودہ معاشی پالیسیوں کا کوئی کس طرح دفاع کر سکتا ہے-1991کا بحران شدید وسیع معاشی عدم توازن کے سبب پیدا ہوا تھا جبکہ موجودہ بحران نااہل اور غیر مؤثر معاشی انتظام کے سبب پیدا ہوا ہے- حکومت اگر چاہے تو براہ راست فوائد کی منتقلی یعنی ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اور ایندھن کی قیمتوں، بلواسطہ ٹیکسوں اور سرمایہ خرچ میں کمی جیسے اقدامات اٹھا سکتی ہے-اس سوال پر کہ کیا ہم1991جیسے بحران کے دور میں واپس آ گئے ہیں؟ پی چدمبرم نے کہاکہ ابھی ہم1991 جیسے حالات میں واپس نہیں آئے- آج ہمارے پاس بڑے پیمانے پر غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر موجود ہیں - ہمارے پاس سیبی (سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا) جیسے ریگولیٹر ہیں - لیکن ہماری شرح ترقی زوال پذیر ہے- جب تک ہم شرح ترقی کو پٹری پر واپس نہیں لاتے، اس وقت تک ملک کی جامع ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ممکن نہیں ہے- یہی وجہ ہے کہ ملک کا غریب طبقہ بحران کا شکار ہے-انہوں نے مودی حکومت کے تین زرعی بل کے تعلق سے کہا کہ زرعی بلوں کے پیچھے جو بھی منشا رہا ہو، حقیقت یہ ہے کہ ان بلوں پر کسانوں بالخصوص پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے کسانوں کو اعتراض ہے- کسانوں اور حکومت کے درمیان جمود کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جس کو توڑنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ان قوانین کو منسوخ کر دیا جائے اور نئے سرے سے کسان تنظیموں کے مشورے سے ایک دیگر مسودہ قانون تیار کیا جائے- سوال یہی ہے کہ حکومت آخر اس راستہ کو اختیار کیوں نہیں کر رہی؟-


Recent Post

Popular Links