سٹی منسپل کونسل کے عام اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہر وارڈ کی ترقی کیلئے 10لاکھ روپئے کا فنڈ فراہم کیاجائے گا

RushdaInfotech July 21st 2021 urdu-news-paper
سٹی منسپل کونسل کے عام اجلاس میں متفقہ فیصلہ  ہر وارڈ کی ترقی کیلئے 10لاکھ روپئے کا فنڈ فراہم کیاجائے گا

منڈیا۔20جولائی(سالارنیوز)ایس سی ایس پی،ٹی ایس پی منصوبے،14/اور 15فائنانس منصوبے اور منسپل فنڈ سے حاصل ہونے والے تقریباً 3.50کروڑ روپئے کی رقم کو شہر کے تمام وارڈوں کیلئے فی کس 10لاکھ روپئے کی رقم فراہم کرنے کا فیصلہ منسپل کونسل کے عام اجلاس میں کیاگیا۔گذشتہ روز سٹی منسپل کونسل کے دھرنپامیٹنگ ہال میں صدر بلدیہ ایچ ایس منجو کی صدارت میں منعقدہ عام اجلاس میں تمام کونسلروں کی متفقہ رائے سے یہ فیصلہ کیاگیا۔منسپل کمشنر لوگیش نے اجلاس کوبتایاکہ ڈی ایس سی ایس پی،ٹی ایس پی فنڈ سے 34.50لاکھ روپئے،14ویں فائنانس منصوبے سے 24لاکھ روپئے،15ویں فائنانس منصوبے سے 2.12کروڑ روپئے اور منسپل فنڈ سے 60تا70لاکھ روپئے فراہم کئے گئے تو اس سے اکٹھاہونے والی 3.50کروڑ روپئے کی رقم کو شہر کے وارڈ کیلئے یکساں طورپر تقسیم کیاجائے گا۔شروعات میں اس پر اعتراض کرنے والے کونسلر شری دھرنے کہاکہ ایس سی ایس پی،ٹی ایس پی فنڈ کو دوسرے فنڈ کیساتھ تقسیم نہ کیاجائے اور اس فنڈ کو پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے مختص کردیاجائے۔ کونسلر کی اس بات کے جواب میں صدر ایچ ایس منجونے کہاکہ اگر اس فنڈ کو دوسرے فنڈ کے ساتھ جمع نہیں کیاگیاتو ہر وارڈ کیلئے صرف 1لاکھ روپئے ہی حاصل ہوں گے،اس رقم سے کسی بھی وارڈ کی ترقی ممکن نہیں ہوسکے گی،اس لئے تمام ترقیاتی فنڈ س کو اکٹھاکر کے تقسیم کیاجارہاہے۔صدر کی اس بات پر بھی کونسلر نے اعتراض کیااور کہاکہ جن وارڈوں میں زیادہ تعداد ایس سی ایس ٹی طبقے کی ہے ایسے وارڈوں کیلئے زیادہ فنڈ فراہم کیاجائے۔کونسلر کے اس اعتراض پر صدر نے کہاکہ ہر وارڈ میں ایس سی ایس ٹی طبقہ کے لوگ موجود ہیں۔کونسلرڈی وی نارائن نے کہاکہ ایس سی ایس پی اور ٹی ایس پی فنڈ میں ایک روڈ اور ڈرائنیج کی تعمیر کرنی ہوتو اس وارڈ میں دلتوں کی آبادی 50فیصد ہونی چائے،اسی کی بنیاد پر ترقیاتی کام کئے جانے چاہئیں۔ہالاہلی میں دلتوں کی تعداد زیادہ ہے اس علاقے کیلئے زیادہ فنڈ فراہم کیاجائے۔نارائن کی اس بات پر کونسلر ناگیش اور شیوپرکاش نے کہاکہ تمام وارڈوں میں مقیم دلتوں کے علاقوں کی ترقی پر توجہ دی جانی چاہئے۔ایک وارڈ میں ترقیاتی کام جاری ہوں تو دوسرے وارڈ میں عوام کونسلر سے سوال نہ کریں،اس لئے فنڈ جمع کر کے ہر وارڈ کیلئے 10لاکھ روپئے کے حساب سے تقسیم کی جائے،مگر ایس سی ایس پی او ر ٹی ایس پی منصوبے کی رقم مختص علاقے کی ترقی کیلئے ہی استعمال کی جائے۔انہوں نے کہاکہ ایس سی ایس پی اور ٹی ایس پی منصوبے کے فنڈ کی تقسیم میں امتیاز برتنے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے،2018 میں بووی کالونی کی سڑکوں کی خستہ حالی کے تعلق سے تصاویر سمیت گذارش کرنے کے باوجود بعد میں عرضی پیش کرنے والے افراد کو رقم منظور کی گئی ہے،اب تک بووی کالونی کی ایک بھی سڑک کی مرمت کا کام نہیں ہوپایاہے۔ حکومت کا فنڈ ایسے خستہ حال راستوں کی تعمیر اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے استعمال کیاجاناچائے۔


Recent Post

Popular Links