کورونا بحران: حکومت کے اعداد و شمار جھوٹ:ملکارجن کھرگے

RushdaInfotech July 21st 2021 urdu-news-paper
کورونا بحران: حکومت کے اعداد و شمار جھوٹ:ملکارجن کھرگے

نئی دہلی۔20جولائی(ایجنسی) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا دوسرا دن بھی ہنگامہ خیز رہا اور کارروائی شروع ہونے کے ساتھ ہی حزب اختلاف کے ارکان نے جاسوسی معاملہ پر نعرے بازی شروع کر دی۔ دریں اثنا، راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے ارکان کی جانب سے کورونا کے معاملہ پر بحث کرائے جانے پر رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد دوپہر کو ایک بجے ایوان کی کارووائی شروع ہونے پر کچھ ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ہنگامہ کے دوران ہی راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف نے ملکارجن کھرگے نے کورونا جنگجوؤں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد کہا کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں نفسا نفسی کا عالم تھا اور خصوصی طور پر دریائے گنگا کی صورت حال انتہائی قابل رحم نظر آئی۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے ہونے والی اموات پر حکومت کے اعدادوشمار جھوٹے ہیں کیونکہ ہندوستان میں 6 لاکھ سے زیادہ گاؤں ہیں اور اگر ایک گاؤں میں 5 / افراد بھی فوت ہوئے ہیں تو اموات کی تعداد 30 لاکھ ہو جاتی ہے، تاہم اس میں اگر شہروں میں ہونے والی اموات بھی جوڑ دی جائیں تو ان افراد کی تعداد 52 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے، جنہوں نے کورونا کے سبب دم توڑ دیا۔ حکومت غلط ڈیٹا جاری کر رہی ہے اس لئے انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ملکارجن کھرگے نے اس دوران آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کورونا سے جو لوگ مر رہے ہیں وہ زندگی اور موت کے دائرے سے نجات حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت وبا سے متعلق انتظام میں پوری طرح ناکام رہی، کیونکہ اسپتالوں میں آکسیجن اور بستر دستیاب نہیں تھے۔کانگریس لیڈر ملکارجن کھرگے نے انتخابی مہم جوئی کے دوران مغربی بنگال میں وسیع ترین ریلیاں کرنے کے معاملہ میں بھی حکومت اور بی جے پی پر حملہ بولا۔ خیال رہے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران ملک میں عوام کا برا حال ہو گیا تھا اور لوگوں کو ادویات، آکسیجن اور اسپتالوں میں بیڈ میسر نہیں ہو پا رہے تھے۔سرکاری اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو گزشتہ 24 گھنٹوں میں 374 نئی اموات کے بعد ملک مجموعی تعداد 4 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے، جو52 لاکھ سے کافی کم ہے جیسا کہ کھرگے نے دعویٰ کیا ہے۔ نئے کیسوں کے بعد معاملوں کی مجموعی تعداد تعداد 3 کروڑ 11 لاکھ 74 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ تاحال ملک میں 4 لاکھ 6 ہزار 130 معاملے ہی فعال رہ گئے ہیں۔


Recent Post

Popular Links