دنیا کا سب سے بڑا ہیکنگ اسکینڈل اہم شخصیات سمیت 1000 / افراد کے فون ہیک کرنے کا انکشاف

RushdaInfotech July 20th 2021 urdu-news-paper
دنیا کا سب سے بڑا ہیکنگ اسکینڈل  اہم شخصیات سمیت 1000 / افراد کے فون ہیک کرنے کا انکشاف

دبئی، 19 جولائی (یو این آئی)اسرائیل کی نجی ہیکنگ کمپنی کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک کے صحافیوں، انسانی حقوق کے رہنماؤں، سیاست دانوں اور یہاں تک وزرائے اعظم اور صدور کے موبائل فون ہیک کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔اسرائیلی کمپنی کی جانب سے تقریباً دنیا بھر کے1000 / افراد کے موبائل فونز کی جاسوسی کیے جانے کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا اور لوگ مذکورہ معاملے پر مزید تفتیش کا مطالبہ کررہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سمیت دیگر 17 صحافتی اداروں کی مشترکہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیلی ہیکنگ فرم نے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے موبائل فون ہیک کیے۔رپورٹ کے مطابق صحافتی اداروں کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی کہ اسرائیلی فرم‘این ایس او’نے ایک ہزار صحافیوں کے موبائل فون تک رسائی حاصل کی اور مجموعی طور پر 50ہزار موبائل نمبرز کا جائزہ لیا۔ڈان میں شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک سب سے بڑے ہیکنگ اسکینڈل کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی فرم نے کسی نہ کسی طرح کم از کم 37 / اسمارٹ موبائل فونز کو ہیک کرکے ان سے ہر طرح کا ڈیٹا حاصل کیا۔مذکورہ رپورٹ ابتدائی طور پر واشنگٹن پوسٹ اور دی گارجین سمیت دیگر نشریاتی اداروں نے شائع کی تھی، جس پر امریکہ اور یورپ کے 17 بڑے نشریاتی اداروں نے مشترکہ طور پر تحقیق کی۔تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اسرائیلی فرم نے 37 موبائل فونز کو ایک خاص طاقتور ہیکنگ سافٹ ویئرز کے ذریعے ہیک کرکے ان کے میسیجز، کال ریکارڈ، فون نمبرز، ای میل اور وائس اسپیکر تک رسائی حاصل کی۔اسرائیلی فرم نے جن 37 موبائل فونز کو ہیک کیا، ان میں 2018 میں ترکی میں قتل کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خشوجی کی رشتے دار دو خواتین بھی شامل ہیں۔واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے شائع کی گئی تفتیشی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فرم نے تقریباً ایک ہزار افراد کو نشانہ بنایا، جن میں صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، قانون دان، سیاست دان اور یہاں تک کے بعض ممالک کے وزرائے اعظم اور صدور بھی شامل ہیں۔اسرائیلی کمپنی نے بڑے پیمانے پر عرب سیاست دانوں، کاروباری حضرات اور سربراہان مملکت کو بھی نشانہ بنایا اور ان کے موبائلز تک رسائی حاصل کی۔مذکورہ ہیکنگ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا اور لوگوں نے اس ضمن میں مزید تفتیش کا مطالبہ کردیا۔تاہم دوسری جانب‘این ایس او’گروپ نے مذکورہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسکینڈل کو اپنے خلاف سازش قرار دیا۔اگرچہ یہ واضح ہے کہ اسرائیلی فرم نے دنیا بھر کے 50 ہزار نمبرز اور ایک ہزار افراد کے موبائل فونز تک رسائی کی اور 37 موبائل فونز کو مکمل طور پر ہیک کرکے ان سے ڈیٹا بھی حاصل کیا۔تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی فرم نے یہ کام کس کیلئے کیا اور کیوں کیا؟برطانیہ سے شائع اخبار کے مطابق پیگاسس سافٹ ویئر کسی بھی آئی او ایس اور اینڈرائڈ فون کے آپریٹنگ سسٹم میں تھوڑی سی بھی خرابی ہونے کی وجہ سے بھی موبائل میں داخل ہو سکتا ہے اور صارف یا آپریٹنگ سسٹم چلانے والی کمپنی کو کسی چیز کا احساس دلائے بغیر موبائل کے ہرطرح کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔موبائل میں داخل ہونے کے بعد مذکورہ سافٹ ویئر تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، ای میل اور اسپیکر سمیت ہر طرح کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے اسی کی کاپی ادارے کو بھیج دیتاہے۔


حکومت نے پیگاسس رپورٹ کی تردید کی
نئی دہلی، 19 جولائی (یو این آئی) حکومت نے آج اسرائیلی سافٹ ویئر استعمال کرکے سیاستدانوں، صحافیوں اور دیگر اہم شخصیات کی جاسوسی کرانے کے الزامات کے بارے میں میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان میں اس طرح کی غیر قانونی جاسوسی کرنا ممکن نہیں ہے۔مرکزی وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹکنالوجی اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں حزب اختلاف کی ہنگامہ آرائی کے درمیان ایک بیان پڑھ کر حکومت کی پوزیشن کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سنسنی کے پیچھے جو بھی وجہ ہواس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہندوستان میں قائم پروٹوکول کی وجہ سے غیر قانونی طور پر کسی کی جاسوسی یا نگرانی ممکن نہیں ہے۔ویشنو نے کہا کہ کل رات ایک ویب پورٹل میں ایک انتہائی سنسنی خیز رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس میں سارے الزامات لگائے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے ایک دن پہلے آنے والی یہ رپورٹ محض اتفاق نہیں ہوسکتی۔


جاسوسی معاملہ: کانگریس کا بڑا دعویٰ
راہل گاندھی کی فون ٹیپنگ کرائی گئی، مودی سرکار نے کی غداری
نئی دہلی، 19 جولائی (ایجنسی) جاسوسی اسکینڈل کی میڈیا خبروں پر کانگریس نے پیر کو مرکزی حکومت پر بڑا حملہ کیا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ حکومت کو راہل گاندھی سمیت اپنی ہی کابینہ میں بیٹھے وزراء کی فون ٹیپنگ کی رپورٹ ملی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر شہریوں کے بنیادی حقوق دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مرکز نے ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑکرنے کا کام کیا ہے۔سرجے والا نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی سمیت ملک کے لیڈروں، ملک کی مختلف معزز میڈیا تنظیموں کے صحافی اور آئینی عہدوں پربیٹھے لوگوں کی جاسوسی کرائی گئی ہے۔اس لئے بھارتیہ جنتا پارٹی کا نام تبدیل کرکے بھارتیہ جاسوس پارٹی رکھنا چاہئے۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا کہ اب ملک کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس بار غدار جاسوس حکومت ہے۔

 


Recent Post

Popular Links