کے آرایس کے اطراف غیر قانونی کانکنی کامعاملہ ریاستی حکومت نے ہارنگی ڈیم کیلئے سکیورٹی سخت کردی

RushdaInfotech July 19th 2021 urdu-news-paper
کے آرایس کے اطراف غیر قانونی کانکنی کامعاملہ ریاستی حکومت نے ہارنگی ڈیم کیلئے سکیورٹی سخت کردی

میسور۔18جولائی (پیر پاشاہ۔نامہ نگار) گزشتہ کئی دنوں سے منڈیا ضلع سری رنگا پٹن تعلقہ میں واقع کرشنا راج ساگر کے اطراف غیر قانونی کانکنی کے معاملے کو لیکرریاست بھر میں کافی بحث ہورہی ہے۔ اس معاملے کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے کورگ ضلع میں واقع ہارنگی ڈیم جہاں سے زیادہ پانی کرشناراج ساگر ڈیم کو سپلائی ہوتاہے، اب حفاظتی انتظامات سخت کردئے ہیں۔ اب تک ہارنگی ڈیم کی سکیورٹی کی ذمہ داری کورگ ضلع کی ریزرو اور سیول پولیس کے ذمہ تھی اب اس ڈیم کی سکیورٹی کو کرناٹک اسٹیٹ انڈسٹریل سکیورٹی فورس کے حوالے کردی ہے۔ اب کے ا یس آئی ایس ا یف کے 23 جوان ہتھیاروں سے لیس دن رات اس ڈیم کی سکیورٹی میں مصروف رہیں گے۔ کسی کوبھی بے ضرورت اس ڈیم کے قریب داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ صرف ایسے افراد کو اندر جانے کی اجازت دی جارہی ہے جو پیشگی اجازت رکھتے ہیں۔ پہلے ہی سے منڈیا ضلع کے سری رنگا پٹن تعلقہ میں واقع کرشناراج ساگر ڈیم کی سکیورٹی کی ذمہ داری کے ایس آئی ایس ایف کے حوالے کردی گئی ہے۔ ہارنگی ڈیم سے ہی میسور، کورگ اور ہاسن اضلاع کیلئے پانی سپلائی کیاجاتا ہے۔ ہارنگی ڈیم کی زیادہ سے زیادہ پانی کی سطح2859فٹ ہے۔ جس میں 8.50ٹی ایم سی پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔اب کے ایس آئی ایس ایف کے جوان ہارنگی ڈیم کے مین گیٹ، چار گیٹ اور پاؤر ہاؤز کے اطراف سخت پہرہ دے رہے ہیں۔نئے سکیورٹی انتظامات کے تحت ہارنگی ڈیم کو پہنچنے والی موٹر گاڑیوں کو ہارنگی ڈیم کے داخلی گیٹ کے قریب پارکنگ کا انتظام کیا گیا ہے اور اس ڈیم کے اندر داخلے کیلئے موٹر گاڑیوں کے مالکوں کو محکمہ آبپاشی کے دفتر اور کے ایس آئی ایس ایف سے اجازت نامہ لانا ہوگااور موٹر گاڑی کی تفصیل سے اسکریننگ بھی کی جائی گی اوررجسٹریشن نوٹ کیا جائیگا۔ موٹر گاڑی میں موجود تمام افراد کے نام اور تفصیلات پیش کرنے ہوں گے۔


Recent Post

Popular Links