بے روزگاری کے خلاف قومی سطح پر آن لائن کانفرنس

RushdaInfotech July 19th 2021 urdu-news-paper
بے روزگاری کے خلاف قومی سطح پر آن لائن کانفرنس

دھارواڑ۔18/جولائی(سالارنیوز) آل انڈیا ڈیموکریٹک یوتھ آرگنائزیشن (اے آئی ڈی وائی یو) اور بے روزگارنوجوان کی ہوراٹا کمیٹیوں کی جانب سے ملک میں بے روزگاری کے خلاف کل ہند سطح پر قومی یوا آن لائن کانفرنس کاانعقاد کیا گیا۔کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے مدھیہ پردیش کے سابق اڈوکیٹ جنرل آنند موہن ماتھر نے کہاکہ آئین کی دفعہ21کے تحت ہر شخص کو زندگی جینے اور ذاتی وجود برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے لیکن روزگار کے بغیر زندگی جینا دشوار ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتیں روزگار فراہم کرنے کرنے کے سلسلہ میں نوجوانوں کو مسلسل گمراہ کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ملک میں بے روزگاری کا تناسب 46فیصد ہے اور موجودہ حالات میں شعبہ زراعت اور صنعت دونوں ٹھپ ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند ممالک میں روزگار کوبنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی نوجوان کو روزگار فراہم نہیں ہوا تو حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا جاسکتا ہے اور یہاں بھی روزگار کو بنیادی حق کے طور پر اعلان کرنے جدوجہد کی ضرورت ہے۔کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے آرگنائزیشن کے کل ہند صدر رامانجنپا آلدہلی نے کہا کہ ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں نوجوان بے روزگار ہیں اورآزادی حاصل ہونے کے بعد سے حکومتیں نوجوانوں کو مایوس کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر بے روزگاری سیاسی پارٹیوں کا اہم موضوع رہتاہے۔لیکن اقتدار حاصل کرنے کے بعد اسے فراموش کردیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں دوسری مرتبہ برسراقتدار بی جے پی حکومت صنعتوں کو بند کررہی ہے۔ بینک، ریلوے، ایل آئی سی، ڈاک خانہ ودیگر سرکاری صنعتوں کی نجکاری کررہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے ختم کررہے ہیں۔آرگنائزیشن کے نائب صدر زبیر ربانی نے افتتاحی خطاب کیا۔ اس موقع پر نائب صدر ششی کمار نے بے روزگار مخالف قرار دادوں کو پیش کیا۔ صدارت کرتے ہوئے آرگنائزیشن کی جنرل سکریٹری پراتیبھا نائک نے کہا کہ اس کانفرنس میں 8ہزار سے بھی زیادہ نوجوانوں نے شرکت کرکے اسے کامیاب بنایا ہے۔اس موقع پر کل ہند بے روزگار نوجوانوں کی ہوراٹا سمیتی کے عہدیداروں کو منتخب کیا گیا۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام خالی عہدوں کو بھرتی کیا جائے۔


Recent Post

Popular Links