امریکہ: انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے فوجیوں میں 3 گنا اضافہ: رپورٹ

RushdaInfotech July 16th 2021 urdu-news-paper
 امریکہ: انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے فوجیوں میں 3 گنا اضافہ: رپورٹ

نیویارک، 15جولائی (ایجنسی)امریکہ میں موجودہ اور سابق فوجیوں سے متعلق ایک نئی جائزہ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے فوجیوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ حالیہ واقعات کا ایک سلسلہ ہے جس میں کیپٹل ہل پر حملہ بھی شامل ہے-رپورٹ کے مطابق اس طرح کے واقعات نے انتہا پسند عناصر کو منظم ہونے میں مدد فراہم کی ہے-رپورٹ کے مطابق یونی ورسٹی آف میری لینڈ کے انسدادِ دہشت گردی کے مطالعے کیلئے بنائے گئے پروگرام اسٹارٹ کے نیشنل کنسورشیم نے بدھ کو ایک نئی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں 354/ ایسے افراد کا تجزیہ کیا گیا ہے جن کا فوج سے تعلق ہے یا رہا ہے اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات سے منسلک مجرمانہ اقدامات پر الزامات کا سامنا ہے یا اس ضمن میں انہیں سزا سنائی گئی ہے-تجزیے میں یہ دیکھا گیا کہ 1990 سے 2010 کے عرصے میں ہر سال ایسے کیسوں کی اوسطاً تعداد جو 7 ہوا کرتی تھی، پچھلی ایک دہائی میں بڑھ کر 21 ہو گئی ہے- سب سے زیادہ اضافہ سال 2017، 2020 اور 2021 میں دیکھا گیا ہے-مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام برسوں میں ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے امریکہ میں انتہا پسندوں کی بڑی تعداد کو منظم کیا- ان واقعات میں سال 2017 میں شارلٹسویل میں یونائیٹ دا رائٹ نامی ریلی، 2019 میں کورونا کی عالمی وبا، 2020 میں نسلی تعصب کے خلاف انصاف کیلئے ہونے والے مظاہرے اور صدارتی انتخابات شامل ہیں -اسی طرح 2021 میں چھ جنوری کو امریکی کانگریس کی عمارت پر حملہ بھی شامل ہے-رپورٹ کے مطابق ان سب واقعات میں سب سے بڑا متحرک واقعہ سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے امریکی کانگریس کا محاصرہ کرنا تھا جس کا مقصد ڈیموکریٹ رہنما جو بائیڈن کی انتخابات میں فتح کی توثیق کے عمل کو روکنا تھا-اس محاصرے کے ساتھ تعلق میں جن 563 افراد کو الزامات کا سامنا ہے ان میں سے 15 فی صد کا تعلق امریکہ کی فوج سے ہے-اگرچہ تجزیے کے مطابق ان 15 فی صد میں سے زیادہ تر اس وقت امریکی فوج کیلئے کام نہیں کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا تھا-اسٹارٹ کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کانگریس کے محاصرے میں فوج سے تعلق رکھنے والوں میں سے 78 فی صد ایسے تھے جو کسی انتہا پسند نظریے سے جڑے ہوئے تھے اور اس وقت وہ فوج کیلئے کام نہیں کر رہے تھے جب ان کی سوچ میں انتہا پسندی غالب آئی تھی یا وہ گرفتار ہوئے تھے-اس رپورٹ کے شریک مصنف مائیکل جیسن نے رپورٹ میں اخذ کردہ نتائج کے بارے میں ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ زیادہ تر افراد جو ہمارے ڈیٹا میں موجود ہیں، اس وقت انتہا پسندی کی طرف مائل ہوئے جب وہ فوج کو چھوڑ چکے تھے- لہٰذا جب فوج کا پسِ منظر رکھنے والوں میں انتہا پسندوں کے مسئلے پر بات کرتے ہیں تو اس سے بنیادی طور پر مراد سابق فوجی ہوتے ہیں -


Recent Post

Popular Links