ڈی جے ہلی، کے جی ہلی کیس میں بڑی کامیابی این آئی اے چارچ شیٹ داخل کرنے میں ناکام،ملزمین کو ہائی کورٹ سے ضمانت

RushdaInfotech June 17th 2021 urdu-news-paper
ڈی جے ہلی، کے جی ہلی کیس میں بڑی کامیابی این آئی اے چارچ شیٹ داخل کرنے میں ناکام،ملزمین کو ہائی کورٹ سے ضمانت

بنگلورو،16جون(سالارنیوز)شہر کے کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کے سلسلے میں گزشتہ 10/ماہ سے مقید نوجوانوں میں سے کرناٹک ہائی کورٹ نے بعض کی ضمانت اس بنیاد پر منظور کرلی ہے کہ اس معاملے کی جانچ میں لگی قومی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے تحقیقاتی رپورٹ داخل کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوگئی۔ کیس کی چارشیٹ داخل کرنے کے لئے این آئی اے کو قانوناً 90/دن کا عرصہ دیا جاتا ہے اس عرصے کے پورے ہونے کے بعد بھی این آئی اے نے چار شیٹ داخل نہیں کی۔ اس کے بعد بھی بنگلور کی خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزموں کو چارشیٹ داخل نہ ہونے کی بنیاد پر ضمانت دینے سے انکارکردیا اور یو اے پی اے قانون کے تحت این آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کے لئے مزید مہلت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ملزموں کی طرف سے ہائی کورٹ میں ایک رٹ عرضی دائر کی گئی جس پر ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے زیریں عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا اور کہاکہ ملک کے آئین کی دفعہ 21/کے تحت ملزموں کے انفرادی حقوق کو چھینا نہیں جاسکتا۔ اسی لئے استغاثہ نے معاملے کی جانچ کے لئے مزید مہلت کی جو درخواست داخل کی ہے وہ مسترد کی جاتی ہے۔ عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ طویل مدت تک قید رہنے کے بعد ملزموں کو ضمانت دینے سے صرف اس بنیاد انکار نہیں کیا جاسکتاکہ معاملے کی جانچ مکمل نہیں ہوئی ہے۔ عدالت نے کے جی ہلی پولیس تھانے میں درج کرائم نمبر229/کے تحت مزمل پاشاہ، سمیع الدین، سراج الدین، ڈی جے ہلی پولیس تھانے میں درج کرائم نمبر195کے تحت مزمل پاشاہ، سید مسعود، سید ایاز، شبر اور محمد زید کی ضمانت منظور کی ہے۔ کرائم نمبر229/میں مزید ملزموں فیروز پاشاہ،شیخ محمد بلال، سید آصف، محمد آصف، محمد مدثر کلیم، نقیب پاشاہ، عمران احمد، محمد اظہر اور کریم عرف صدام کی عرضیئ ضمانت زیر سماعت ہے۔ جبکہ کرائم نمبر195میں سید خالد، مدثر احمد، سید مبارک، فیروز پاشاہ، محمد توصیف، عارف پاشاہ، فاروق، شمیل پاشاہ، تنویر خان اور کے ایم واجد پاشاہ کی عرضی ضمانت پر فیصلہ ابھی باقی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اس کیس کی جانچ کے لئے این آئی اے کو بارہا توسیع دی جاچکی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر مقررہ وقت میں این آئی اے نے اگر چارج شیٹ داخل نہیں کی ہے تو اس کے لئے ملزموں کو قید میں نہیں رکھا جاسکتا۔ عدالت نے یہ ہدایت دی کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی جلد از جلد معاملے کی جانچ پوری کرے۔ ملزموں کو ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے 2/لاکھ روپیوں کا ذاتی مچلکہ جمع کرانے اور مقدمے کی سماعت کے دوران حاضر رہنے اور جب بھی تحقیقاتی افسر کی طرف سے طلب کیا جائے جانچ میں تعاون کرنے کی ہدایت دی اور یہ بھی کہ ملزم زیریں عدالت کے دائرے سے پیشگی اجازت کے بغیر باہر نہیں جاسکیں گے۔


Recent Post

Popular Links