سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کیس سے متعلق فیصلہ محفوظ

RushdaInfotech May 18th 2021 urdu-news-paper
سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کیس سے متعلق فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، 17 مئی (یواین آئی) دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو کورونا وبا کے قہر کے دوران سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کا کام روکنے سے متعلق درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس جیوتی سنگھ پر مشتمل ڈویژن بنچ مترجم انیا ملہوترا اور تاریخ داں اور دستاویزی فلم ساز سہیل ہاشمی کی طرف سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی فارم کی خلاف ورزی پر سنٹرل وسٹا پروجیکٹ پر جاری کام کوروکنے کی درخواست کی سماعت کررہی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت لاک ڈاؤن کے دوران کام صرف صرف ہنگامی اور ضروری خدمات کو جاری رکھنے سے متعلق التزم کی خلاف ورزی کرکے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے بتایا کہ درخوست میں جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے وہ کام شاپورجی پالونجی اینڈ کمپنی کو جنوری 2021میں دیئے گئے تھے۔مسٹر لوتھرا نے کہا“دہلی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور سب کچھ روک دیا گیا تھا۔ اچانک ایک بہت ہی دلچسپ بات ہوئی اور کام، مدت کار میں ہی مکمل کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خط لکھا گیا کہ شاپور جی پالونجی کو کام کرنے کی اجازت دی جائے۔سنٹرل وسٹا کو‘موت کا مرکز قلعہ’قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب اس پروجیکٹ کے کام کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کی جاسکتیں اور یہ دیکھنا بھی مشکل ہے کہ مرکزی حکومت نے جو یقین دہانی کرائی ہے وہ وہاں پر پوری ہورہی ہے یا نہیں۔ وہاں عوامی طور پر کوئی سامان بھی دستیاب نہیں ہے۔درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ کووڈ سے متعلق جاری رہنما خطوط کے مطابق تمام تعمیرات کو روکا جانا ہے اور اس سے اس کا اثر وہاں نہیں پڑے گا جہاں کام کے مقامات پر مزدور رہ رہے ہیں۔ درخواست گزاروں نے الزام لگایا کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے لئے مزدوروں کو قرول باغ، کیرتی نگر اور سرائے کالے خان سے بذریعہ بس لایا جاتا ہے۔تاہم مرکزی حکومت نے کہا کہ اس طرح کے تمام انتظامات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ تمام تعمیری کام کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے کرائے جائیں۔


Recent Post

Popular Links