کیا مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کرناٹک میں اوربھی زیادہ لوگ مریں؟ آکسیجن کی قلت کے مسئلہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کا انتہائی تلخ تبصرہ، کرناٹک کا کوٹہ آج ہی بڑھانے کی ہدایت

RushdaInfotech May 5th 2021 urdu-news-paper
کیا مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کرناٹک میں اوربھی زیادہ لوگ مریں؟ آکسیجن کی قلت کے مسئلہ پر کرناٹک ہائی کورٹ کا انتہائی تلخ تبصرہ، کرناٹک کا کوٹہ آج ہی بڑھانے کی ہدایت

بنگلورو۔4مئی(سالار نیوز)کرناٹک کو آکسیجن کا کوٹہ مقرر کرنے میں مرکزی حکومت کی تاخیر پر منگل کے روز کرناٹک ہائی کورٹ نے سختی برہمی کا اظہار کیا اور مرکزی حکومت کے وکیل سے عدالت نے دریافت کیا کہ کیا مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ کرناٹک میں اور بھی زیادہ لوگ مریں؟چیف جسٹس ابھے سرینواس اوکا اور جسنس اروند کمار پر مشتمل بینچ میں چیف جسٹس نے مرکزی حکومت نے وکیل کو واضح کردیا کہ مرکزی حکومت کے طریقہ کار سے عدالت کو کچھ سروکار نہیں بلکہ عدالت یہ چاہتی ہے کہ فوری طوررپ آکسیجن کی فراہمی کی جائے۔ عدالت نے یہ دریافت کیا کہ مرکزی حکومت نے ان ریاستو ں کو افزود آکسیجن کیو ں دیا جن کی مانگ کم ہے۔ جبکہ ان ریاستوں کو آکسیجن نہیں دے رہی ہے جہاں کورونا متاثرین کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ عدالت نے اس صورتحال کا جواز طلب کیا۔چامراج نگر میں آکسیجن کی قلت سے 24لوگوں کی موت کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے بینچ نے مرکزی حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ مرکزی حکومت کی طرف سے حاضر ہو کر وکیل نے اس سلسلہ میں فیصلہ کے لئے ایک اور دن کی مہلت مانگی جس پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی فیصلہ ہو گا اور تازہ صورتحال ہو گی اس کی تفصیل چہارشنبہ کی صبح 10.30بنے عدالت کے سامنے ہونی چاہئے۔ بینچ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو عدالت یہ واضح کردینا چاہتی ہے کہ چہارشنبہ کی صبح جب اس معاملہ کی سماعت شروع ہو گی مرکزی حکومت کا فیصلہ عدالت کے سامنے ہونا چاہئے۔عدالت کو اس سے پہلے ریاستی حکومت کی طرف سے یہ بتادیا گیا تھا کہ ریاست میں روزانہ 1792میٹرک ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے جبکہ مرکزی حکومت کی طرف سے 802میٹرک ٹن آکسیجن فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں عدالت کی طرف سے 30اپریل کو حکم صادر کئے جانے کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ کوٹہ کو بڑھا کر 865ٹن کیا گیا ہے۔ اس مرحلہ میں ایک عرضی گزار کے وکیل نے اسی طرح کے معاملہ میں دہلی ہائی کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا اورکہا کہ اس حکم سے دہلی کو کچھ حد تک راحت ملی۔ چامراج نگر المیہ کے بارے میں ہائی کورٹ نے حکومت سے تفصیل مانگی اور دریافت کیا کہ وافر مقدار میں آکسیجن کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے حکومت نے کیا کیا ہے۔ اس سلسلہ میں کوئی حکم صادر کئے بغیر عدالت نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ یہ بات صاف ہے کہ ریاست میں آکسیجن کی شید قلت ہے اس کے اسباب کا پتہ لگانے کے لئے ایک ریٹائرڈ جج کے ذریعے جانچ کروانی ہو گی۔


Recent Post

Popular Links