جدید ترین تکنیک سے بنائی گئی ’حجراسود‘ کی حیرت انگیز تصاویر

RushdaInfotech May 5th 2021 urdu-news-paper
جدید ترین تکنیک سے بنائی گئی ’حجراسود‘ کی حیرت انگیز تصاویر

ریاض۔4مئی (ایجنسی)خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی ایسی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی ہیں جو فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔سعودی عرب میں موجود مسلمانوں کی دو مقدس مساجد مسجد النبوی اور مسجد الحرام کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے رئسۃ شؤون الحرمین کے ٹوئٹر اور انسٹاگرام اکاؤنٹس سے ایسی تصاویر شیئر کی گئی ہیں جنھیں اب تک حجراسود کی انتہائی باریک بینی سے بنائی گئی تصاویر میں شمار کیا جا رہا ہے۔رئسۃ شؤون الحرمین کے مطابق ’فوکس سٹیک پینورما‘ نامی فوٹوگرافی تکنیک کے ذریعے بنائی گئی ان تصاویر کی سات گھنٹے تک عکس بندی کی گئی اور ان تصاویر کو اکٹھا کرنے میں تقریباً 50 گھنٹوں کا وقت لگا ہے۔اس ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف تصاویر کو جوڑ کر ایک انتہائی مستند تصویر بنائی جاتی ہے جس کی کوالٹی بہترین ہوتی ہے اور اس کے ذریعے تصویر کی باریکیوں پر بھی بخوبی نظر ڈالی جا سکتی ہے۔اس تکنیک کے حوالے سے مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ تصویر بنانے میں 7 گھنٹے صرف ہوئے۔ اس دوران 1050 فاکس سٹاک پینوراما بنائے گئے اور بالآخر 50 گھنٹوں کی پراسیسنگ کے بعد جو تصویر سامنے آئی وہ 49 ہزار میگا پکسلز پر مشتمل تھی۔اس پتھر کی وضع انڈے جیسی ہے جس میں کالے اور سرخ رنگ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے اور یہ خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی کونے پر دیوار کے ساتھ رکھا ہے۔ان تصاویر کے سوشیل میڈیا پر شیئر ہوتے ہی اکثر صارفین اس پتھر کی خوبصورتی کے حوالے سے تبصرے کیے۔ کسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اب میں حجر اسود کو سپر ریزولوشن میں دیکھ سکتا ہوں۔مسلمانوں کے لیے حجر اسود کی تاریخی اہمیت ہے اور عمرے اور حج کی غرض سے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے اس پتھر کا چومنا لازمی ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے ہاتھ کے اشارے سے بھی چوما جا سکتا ہے۔زائرین حج اسے چومنے کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کرتے ہیں جب طواف میں بھیڑ کم ہو تاکہ ان کے حج کے ارکان پورے ہوں۔اس پتھر سے جڑی تاریخ دراصل مذہب اسلام سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ روایات کے مطابق یہ پتھر اس وقت جنت سے اتارا گیا تھا جب حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے اور انھیں تعمیر مکمل کرنے کے لیے ایک پتھر کی ضرورت تھی۔پیغمبر اسلام کو نبوت دیئے جانے سے قبل خانہ کعبہ کی مرمت ہوئی تھی جس کے بعد حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے لیے قبائل میں اختلاف ہو گیا تھا اور سب چاہتے تھے کہ یہ شرف انھیں حاصل ہو، چنانچہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل جو پہلا شخص خانہ کعبہ کی جانب آئے گا وہی فیصل ہوگا۔اس دن سب سے پہلے وہاں تشریف لانے والی شخصیت حضرت محمدؐ کی تھی اور انھوں نے اپنے ہاتھ سے پتھر اٹھا کر اپنی چادر پر رکھی اور تمام قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونوں کو پکڑ کر اسے مطلوبہ جگہ پر رکھ دیں اور تمام قبائل نے ان کے فیصلے کو قبول کیا۔ اسی مقام سے طواف کا آغاز اور یہیں اس کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ زمین سے ڈیڑھ میٹر اونچائی پر نصب کیا گیا ہے۔ حجر اسود کا رنگ سرخی مائل سیاہ ہے اور اس کا اندرونی حصہ پیالے کی طرح ہے۔ حجر اسود کو چاروں طرف سے خالص چاندی کے فریم سے تیار کیا گیا ہے تاکہ اسے محفوظ رکھا جا سکے اور پتھر کی جگہ بیضوی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔مختلف حوالوں سے یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ زمین پر بھیجے جانے سے پہلے حجر اسود کا رنگ چمک دار اور سفید تھا مگر اللہ نے اس کا نور واپس لے لیا۔ یہ بات حدیث نبوی سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت کے دو یاقوت ہیں۔ اللہ نے ان دونوں کا نور لے لیا۔ اگر ان کا نور غائب نہ کیا جاتا تو وہ مشرق اور مغرب کے درمیان کو روشن کر دیتا۔ حجر اسود پتھر کے 8چھوٹے ٹکڑوں پر مشتمل ہے، جسے دن میں 5 مرتبہ بیش قیمت عطریات سے معطر کیا جاتا ہے۔


Recent Post

Popular Links