گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے بنگال میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد میں نمایاں کمی

RushdaInfotech May 4th 2021 urdu-news-paper
گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے بنگال میں مسلم ممبران اسمبلی کی تعداد میں نمایاں کمی

کلکتہ،3مئی (یواین آئی) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوں کے اتحاد نے گرچہ بی جے پی کو شکست دے دی ہے تاہم اس مرتبہ مسلم نمائندگی کی تعداد میں بڑی کمی آئی ہے۔294/ اسمبلی حلقے میں محض 44مسلم ممبران پارلیمنٹ ہی کامیاب ہوسکے ہیں۔جب کہ مرشدآباد کے دو اسمبلی حلقے میں پولنگ باقی ہیں اور یہاں سے مسلم ممبروں کے ہی کامیاب ہونے کی توقع ہے۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں 59 ممبرس کامیاب ہوئے ہیں۔بنگال میں مسلم آبادی کی شرح 27فیصد ہے۔60سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹروں ں کی شرح 50فیصد سے زاید ہے جبکہ 40سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹوں کی شرح 40سے 50کے درمیان ہے۔اس کے باوجود ترنمول کانگریس نے محض 46مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا تھا۔گزشتہ اسمبلی انتخابات کے مقابلے ترنمو ل کانگریس کے مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کے مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد 30تھی اس مرتبہ اضافہ ہوکر 43ہوگئی ہے اور دو حلقے کے نتائج اگر ترنمول کانگریس کے حق میں آتے ہیں تو اس کے مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں اضافہ ہوکر 45ہوجائیں گے۔اس اضافہ کی وجہ یہ ہے کہ مالدہ اور مرشدآباد جیسے مسلم اکثریتی حلقے ووٹروں نے یک طرفہ ترنمو ل کانگریس کو وو ٹ پڑے ہیں۔نو تشکیل شدہ پارٹی آئی ایس ایف شمالی 24پرگنہ کے بھانگر سے جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ نوشاد صدیقی اسمبلی پہنچ گئے ہیں چوں کہ کانگریس اور بائیں محاذ اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی ہے اس لئے گزشتہ انتخاب کے مقابلہ اس مرتبہ مسلم ممبران پارلیمنٹ کی تعداد میں کمی آئی ہے۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بائیں محاذ کے پاس 9 مسلم ارکان اسمبلی تھے اور کانگریس کے پاس 18 مسلم ارکان اسمبلی تھے۔ہوڑہ اور بیر بھوم اور دیگر علاقے جہاں مسلم ووٹروں کی شرح 30سے زاید ہے وہاں آبادی کے لحاظ سے ترنمول کانگریس نے مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا۔اور کانگریس و بائیں محاذ نے تو دیا مگران کی پوزیشن بہت ہی کمزور رہی۔اس مرتبہ اسمبلی انتخاب میں جن اہم مسلم لیڈروں نے جیت حاصل کی ہے ان میں ریاستی وزیر فرہاد حکیم، مولانا صدیق اللہ چودھری، جاوید احمد خان، عبد الخالق ملا، جسٹس عبد الغنی، قاضی عبد الرحیم،ریاستی وزیر غلام ربانی، ریاستی وزیر ذاکر حسین اور دیگر لیڈر شامل ہیں۔


Recent Post

Popular Links