وائرس سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤن ضروری:سپریم کورٹ ' سخت تبصرے کو تلخ گھونٹ کی طرح لینا چاہئے

RushdaInfotech May 4th 2021 urdu-news-paper
 وائرس سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤن ضروری:سپریم کورٹ ' سخت تبصرے کو تلخ گھونٹ کی طرح لینا چاہئے

نئی دہلی، 3 مئی (یواین آئی) سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ میڈیا کو عدالتوں میں زبانی تبصرے کی رپورٹنگ سے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ عدالتی عمل اور عوامی مفاد میں ہے، ساتھ ہی عدالتوں کے سخت تبصرے کو‘کڑوی دوا کے‘گھونٹ’کے طور پر لیا جانا چاہئے۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مدراس ہائی کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیئے۔ عدالت نے اس کیس میں فیصلہ بھی محفوظ کرلیا۔مدراس ہائی کورٹ نے حال ہی میں ریمارکس دیئے تھے کہ کورونا کی دوسری لہر کیلئے الیکشن کمیشن خود ذمہ دار ہے اور اس کے افسروں کو قتل کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہئے۔جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ قتل کے الزام سے پریشان ہیں۔ اگر میں اپنے بارے میں بات کروں تو میں اس طرح کے ریمارکس نہیں دیتا، لیکن لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ہائی کورٹ کا بڑا کردار ہے۔جسٹس شاہ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا تبصرہ اسی طرح لیا جانا چاہئے جس طرح کسی ڈاکٹر کی کڑوی دوا لی جاتی ہے۔


نئی دہلی،3مئی (ایجنسی)سپریم کورٹ نے گزشتہ روزمرکز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ویکسین کی خریداری کی پالیسی پر نظر ثانی کرے جس میں کہا گیا ہے کہ اس سے عوام کے حق صحت کو نقصان پہنچے گا جو آئین کے دفعہ 21 کا لازمی عنصر ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستوں پر بھی زور دیا کہ عوامی فلاح و بہبودی کے مفاد میں دوسری لہر کے دوران وائرس سے نمٹنے کیلئے لاک ڈاؤن لگانے پر غور کیا جائے۔ سپریم کورٹ میں لاک ڈاؤن کے بارے میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، ایل ناگیشورا راؤ اور ایس رویندر بھٹ کی بنچ نے کہا کہ ”ہم خاص طور پر پسماندہ طبقات پر سماجی اور معاشی اثرات کے بارے میں جانتے ہیں۔ اگر لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے تو ان برادریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پہلے سے انتظامات کرنا ضروری ہے“۔کورٹ نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ کسی کو بھی مقامی رہائشی ثبوت یا آئڈینٹی کارڈ کی کمی کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہونے یا ضروری ادویات سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ بنچ نے مرکز سے دو ہفتوں کے اندر اندر ہسپتالوں میں داخلے کے بارے میں ایک قومی پالیسی وضع کرنے کو کہا ہے۔ جس کے بعد تمام ریاستوں کو عمل پیرا ہونا چاہئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکز نے 20/ اپریل کو اپنی ویکسین پالیسی میں ترمیم کی تھی اور کہا تھا کہ وہ صرف 50 فیصد پیداوار خریدے گا اور ویکسین بنانے والوں کو 50 فیصد براہ راست ریاستوں اور نجی اداروں کو زیادہ قیمتوں پر فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔تینوں جسٹس کی بنچ نے مشورہ دیا کہ ویکسین کی خریداری کو مرکزی حیثیت دی جائے اور ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں ویکسین کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔
دفعہ21 کے تحت حق زندگی (جس میں حق صحت بھی شامل ہے) کے مطابق مرکزی حکومت کو تمام ویکسین خریدنے اور ٹیکہ سازوں کے ساتھ مناسب قیمت پر بات چیت کرنا ہوگا۔ ایک بار جب ریاستی حکومت کو ویکسین کی مقدار مختص کردی جاتی ہے تو اس کی عوام تک تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔اس میں نظرثانی شدہ ویکسین پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مناسب حد تک ریاستوں کو مقابلہ کو فروغ دینے اور نئی ویکسین تیار کرنے والوں کوویکسین مینوفیکچررز سے بات کرنی ہوگی، لیکن اس کے بجائے ان پر دباؤ ڈالنا اور ویکسین کے معیار کے بجائے مقدار پر زیادہ توجہ دینا یا انھیں کسی بھی طرح مجبور کرنا ممکنہ طور پر 18 تا 44 برس کی عمر کے افراد کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔پنچ نے کہا ہے کہ اس میں بہوجن یا وہ افراد شامل ہیں جو مراعات یافتہ اور پسماندہ گروہوں کے تحت ہیں جن میں قیمتوں کی ادائیگی کرنے کی اہلیت نہیں ہے۔بنچ نے کہا ہے کہ ایسے لوگ جو ویکسین کی خریداری کی سکت نہیں رکھتے ان لوگوں کو ویکسین ضرور فراہم کرنی ہوگی۔ اسے مفت یا سبسڈی پر رکھا جاسکتا ہے۔ اس کا انحصار ریاستوں پر ہوگا۔بنچ کا کہنا ہے کہ ویکسین سے پوری قوم میں تفریق پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ شہریوں کو دی جانے والی ویکسین عوام کیلئے ایک قیمتی فائدہ ہے۔ لیکن شہریوں کے مختلف طبقات کے درمیان امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔

 


Recent Post

Popular Links