چامراج نگر میں آکسیجن کی قلت سے 24مریضوں کی موت ضلعی انتظامیہ پر لاپروائی کا الزام، جانچ ہو گی: ایڈی یورپا

RushdaInfotech May 4th 2021 urdu-news-paper
چامراج نگر میں آکسیجن کی قلت سے 24مریضوں کی موت ضلعی انتظامیہ پر لاپروائی کا الزام، جانچ ہو گی: ایڈی یورپا

بنگلور3مئی(سالار نیوز)پیر کی صبح کی اولین ساعتوں میں کرناٹک کے چامراج نگرضلع کے سرکاری میڈیکل کالج میں آکسیجن کی قلت کے سبب 24کورونا مریضوں کی موت ہو گئی۔ چامراج نگرانسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (سی آئی ایم ایس)میں علاج کیلئے داخل 24مریض رات 12بجے سے 2بجے کے درمیان چل بسے۔ یہ واقعہ گلبرگہ کے ایک نجی اسپتال میں آکسیجن کی قلت کے نتیجہ میں دومریضوں کی موت کے دو دن بعد پیش آیا ہے۔ سی آئی ایم ایس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جی ایم سکسینہ نے بتایا کہ آکسیجن کی قلت کے سبب رات 12بجے اور 2بجے کے درمیان 24مریضوں کی مو ت واقع ہوئی ان میں سے 18مریض وہ ہیں جو کورونا کے علاوہ دیگرامراض میں مبتلا تھے اور ان کی علالت کافی طویل تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام مریضوں کو آکسیجن کے زیادہ بہاؤ کی اشد ضرورت تھی۔ ان میں سے اکثر کو باہری اور داخلی وینٹی لیٹروں پر رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسپتال کو روزانہ آکسیجن کے 350سلنڈروں کی ضرورت ہے لیکن صر ف 35تا40سلنڈر ہی مہیا کروائے جا رہے ہیں۔ آکسیجن کی ضرورت کافی زیادہ ہوجانے کے سبب یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال کو بلاری یا بنگلور سے آنے والے لکویڈ آکسیجن پر انحصار ہے۔ سلنڈروں کو بھرنے کیلئے بھی میسور میں پرائیویٹ تاجروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چامراج نگرضلع میں ہی ایک آکسیجن باٹلنگ پلانٹ لگا دیا جائے تواس مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی ضرورت کو دیکھتے ہوئے میسور میڈیکل کالج سے دیر رات 50سلنڈر روانہ کئے گئے لیکن ہائی فلو کے سبب یہ بھی ناکافی ہو گئے۔ ریاست کے ایک سینئر آئی اے ایس آفیسر نے گمنامی کی شرط پر بتایا کہ موجودہ حالات کورونا کی پہلی لہر کے مقابل کافی خراب ہیں اور ریاستی حکومت صورتحال کو نپٹنے میں بے بس ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال جن افسروں کو کووڈ ڈیوٹی پر متعین کیا گیا تھا اس بار ان تمام کو ہٹا دیا گیا ہے۔ کورونا سے نپٹنے کیلئے کئے جا رہے کسی انتظام میں شفافیت نہیں ہے۔ آکسیجن، ریمڈیسیور اور دیگردواؤں کیلئے اضلاع کے انتظامیہ میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ حکومت کی طرف سے اضلاع کیلئے کوئی کوٹہ مقرر نہیں کیا گیا ہے جس کے سبب اس طرح کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ مرکزی حکومت نے کرناٹک کو فراہم کئے جانے والے آکسیجن کی حد 820میٹرک ٹن تک روک دی ہے ریاستی قیادت میں وہ دم نہیں کہ اس حد کو بڑھا سکے اس کے علاوہ ہر معاملہ میں وزراء اور اراکین اسمبلی کی مداخلت نے حالات کو اور بھی بدتر کردیا ہے۔ایسا نہیں کہ آکسیجن کی قلت صرف کرناٹک میں ہے ملک کی دیگر ریاستیں بھی اس سے پریشان ہیں لیکن اس سے نپٹنے کیلئے وہ حکومتیں جو جدوجہد کر رہی ہیں کرناٹک میں وہ ندارد ہے۔
ایڈی یورپا کا رد عمل:وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے اس سانحہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ کے احکامات صادر کر دئے گئے ہیں۔ اس دوران ایڈی یورپانے منگل کی صبح ایک ہنگامی کابینہ اجلاس طلب کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس اجلاس میں تمام اضلاع کے انچارج وزراء سے کہا جائے گا کہ وہ ان اضلاع میں مقیم رہیں۔ اس کے علاوہ ریاست کے تمام اسٹیل کارخانوں کو آکسیجن کی سپلائی بند کردی جائے گی ساتھ ہی ان کارخانوں میں جو آکسیجن تیار ہو تا ہے اس کو بھی حکومت طبی استعمال کیلئے لے سکتی ہے۔
وزیر صحت ماننے تیار نہیں:ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر سدھاکر نے اس خبرکو مسترد کردیا کہ چامراج نگرمیں آکسیجن کی کمی سے 24لوگوں کی موت ہوئی اور دعویٰ کیا ہے کہ صرف تین اموات آکسیجن کی قلت سے ہوئی ہیں باقی 21کی اموات کورونا وارئرس کے سبب ہونے والی فطری اموات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انہیں یہ تفصیل دی گئی کہ رات 12بجے سے 4بجے کے درمیان سی آئی ایم ایس میں آکسیجن کی کمی سے صرف تین لوگ مرے۔

 


Recent Post

Popular Links