قرآن میں بیان’مجمع البحرین‘ کا دیدار کیجئے ’مجمع البحرین‘ جہاں حضرت موسیٰ کی خضرسے ملاقات ہوئی تھی

قرآن میں بیان’مجمع البحرین‘ کا دیدار کیجئے ’مجمع البحرین‘ جہاں حضرت موسیٰ کی خضرسے ملاقات ہوئی تھی

قاہرہ۔ 6دسمبر(ایجنسیز)قرآن پاک کی سورۃالکہف میں ’ مجمع البحرین‘جہاں دو سمندر باہم ملتے ہیں ،کے بارے میں تذکرہ تو بار بار پڑھا اور سنا ہوگا مگر العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس تاریخی مقام کا تعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس جگہ کی تصاویر شائع کرتے ہوئے اس کا تاریخی پس منظر بھی بیان کیا ہے۔ ’مجمع البحرین‘ وہ جگہ ہے جہاں بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبر سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’مجمع البحرین‘ کے اصل مقام کا تعین مصر کے ماہر آثار قدیمہ ڈایریکٹر جنرل برائے آرکیالوجیکل اسٹیڈیز ریسرچ سینٹر ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان نے کیا ہے۔ڈاکٹر ریحان نے کہا کہ سورۃ الکہف میں جس جگہ کو ’مجمع البحرین‘ کہا گیا ہے وہ مصر کے معروف سیاحتی مقام شرم الشیخ کے قریب واقع ہے۔ آج کل اسے ’راس محمد‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جزیرہ نما سیناء کے جنوب میں واقع خلیج العقبہ اور خلیج السویز یہاں پر ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ ایسی جگہ کرہ ارض پر کسی اور مقام پر نہیں ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جہاں حضرت موسیٰ اورخضر کے درمیان ملاقات اور طویل مکالمہ ہوا تھا وہ یہی جگہ تھی۔ڈاکٹرریحان کا کہنا ہے کہ انہوں نے معروف ماہر آثار قدیمہ عماد مہدی کی تحقیق سے بھی استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے مصنوعی سیارے سے حاصل کردہ تصاویر کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضرعلیہما السلام کے درمیان آج سے 3200 سال قبل ملاقات اسی جگہ ہوئی تھی، کیونکہ راس محمد سے مشابہ کوئی جگہ دنیا میں موجود نہیں ہے جہاں پر دو سمندر ایک دوسرے سے یوں ملتے ہوں۔ یہ جگہ دراصل ایک ہی سمندر کی دو خلیجوں خلیج عقبہ اور خلیج سویز کا باہم ملاپ ہے۔مصری ماہر آثار قدیمہ نے مصنوعی سیارے کی مدد سے حاصل کردہ تصاویر میں مچھلی والی چٹان کی تصویر بھی دکھائی اور کہا ہے کہ جلیل القدرنبی حضرت موسیٰ حضرت خضر کو تلاش کرتے ہوئے اسی جگہ پہنچے تھے جہاں ان کے پاس موجود مچھلی خدا کے حکم سے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد سمندر میں چلی تھی، اسی جگہ پر حضرت موسیٰ اور خضر کی ملاقات ہوئی تھی۔یہ چٹان ’راس محمد‘ کے راستے کے درمیان میں واقع ہے۔ یہ سیدھا راستہ ’مجمع البحرین‘ کو خشکی سے ملانے والی واحد راہ ہے۔ یہاں سے گہرے پانی تک کا فاصلہ دو کلو میٹر ہے۔ اس لیے اغلب یہی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھ جو مچھلی لے کرچلے تھے وہ اسی جگہ سے سمندر میں اتری تھی۔ قرآن مجید میں اس مچھلی کے بارے میں سورہ کہف ہی میں ’’ فَاتَّخَذَ سَبِیلَہْ فِی البَحرِ سَرَبا‘‘ اور ’’ وَاتَّخَذَ سَبِیلَہْ فِی البَحرِ عَجَباً‘‘ کے الفاظ میں تذکرہ ہے۔ قرآن نے دو سمندروں کے پھٹ جانے اور ان میں فاصلہ پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ دوبارہ زندہ ہوکر سمندر میں جانے والی مچھلی کو واپس کرنے کا معجزہ بیان کیا ہے۔مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالرحیم ریحان کے مطابق مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر میں سمندر کے کنارے موجود وہ پایہ بھی موجود ہے جس کے ساتھ ’’العبد الصالح‘‘حضرت خضر علیہ السلام نے اپنی کشتی باندھی تھی۔ وہاں سے یہ کشتی ’راس محمد‘ کی طرف چلی ہوگی جو ملاقات کی جگہ ’چٹان‘ سے 300 میٹرکی مسافت پرہے۔ یہ پایہ چٹانی دیوار کی ایک طرف ہے جس کے بعد 50 میٹر کی مسافت پر6 سے 8 میٹر چوڑا سمندر ہے۔ڈاکٹرعبدالرحیم ریحان کہتے ہیں کہ تاریخی واقعات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت خضر کا سفینہ خلیج سویز سے خلیج عقبہ میں داخل ہوا، یہی وجہ ہے کہ خلیج سویز آج بھی مصر کا حصہ ہے۔ خلیج سویز اور خلیج العقبہ کی تاریخ بھی الگ الگ ہے۔ خلیج سویز آج تک بحری قذاقی سے محفوظ رہی ہے جب کہ خلیج العقبہ سے گذرنے والی کشتیوں اور بحری جہازوں پر اکثر بحری قذاق حملے کرتے رہتے ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق خلیج العقبہ میں آمد ورفت یورپی اور ہندستانی لوگوں نے 1200 سال قبل مسیح شروع کی تھی۔



Like us to get latest Updates