درگاہ میں ہنومان مورتی رکھنے پر فرقہ وارانہ تشدد،آتشزنی پتھراؤ

RushdaInfotech May 18th 2022 urdu-news-paper
درگاہ میں ہنومان مورتی رکھنے پر فرقہ وارانہ تشدد،آتشزنی پتھراؤ

بھوپال-17/مئی (ایجنسی)مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں گذشتہ رات ایک درگاہ کے قریب ہنومان کی مورتی نصب کرنے پر دو فرقوں کے درمیان تنازع بھڑک اٹھا- اس کے بعد یہاں پتھراو ہوا اور آگزنی کی کوشش کی گئی- پولیس کو صورتحال پر قابو پانے کے لئے آنسو گیس کے گولوں کا استعمال کرنا پڑا- علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے- فی الحال علاقے میں امتناعی احکامات جاری ہیں -خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کے مطابق پرانی کچہری کے علاقے میں ایک درگاہ موجود ہے، کچھ لوگ اس کے قریب کی زمین پر ہندو دیوتا ہنومان کی مورتی نصب کرنا چاہتے تھے، جس کی مسلمانوں نے شدید مخالفت کی- اس کے بعد دونوں فرقوں کے لوگ جمع ہو گئے اور جھگڑا ہونے لگا- اس دوران پتھراؤ ہونے لگا اور ایک بائیک کو نذر آتش کر دیا گیا-دو فرقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا اور آنسو گیس کے گولے بھی داغنے پڑے- پولیس سپرنٹنڈنٹ سورج ورما نے صحافیوں کو بتایا کہ پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے، بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی- پولیس کا گشت جاری ہے، حالات قابو میں ہیں -دریں اثناء مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگوجئے سنگھ نے سلسلہ وار ٹوئٹ کئے اور لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی-انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا، ”مجھے نیمچ کے لوگوں نے کل کے واقعہ کے تعلق سے کچھ ویڈیو بھیجے ہیں وہ میں شیئر کر رہا ہوں - میں نے کل رات کو ہی کلکٹر اور ایس پی نیمچ سے فون پر بات کی- انہوں نے مجھے قصورواروں کے خلاف کارروائی یقین دہانی کرائی ہے-“دگوجئے سنگھ نے مزید کہا، ”میں نے انتظامیہ سے کچھ سوال کئے کہ کیا ہنومان جی کی مورتی نصب کرنے کی انتظامیہ سے اجازت طلب کی گئی تھی، جواب ملا نہیں -جس مقام پر مورتی لگائی جا رہی تھی وہ نجی تھی کا سرکاری، جواب ملا سرکاری- کیا سرکاری زمین پر بغیر اجازت مورتی نصب کرنا جرم ہے، جواب ملا ہاں - جن لوگوں نے یہ کیا ان کے خلاف کیا ایف آئی آر درج ہوئی، جواب ملا سی سی ٹی وی پر دیکھ کر کارروائی کی جائے گی-“سوال اور جواب کے ذریعے دگوجئے نے مزید بتایا،”پتھربازی دونوں طرف سے کی گئی- مسجد میں آگ لگانے کے تعلق سے جواب دیا گیا کہ کچھ حصوں میں آگ لگی ہے- اگر کسی نے شکایت نہیں کی تو کیا پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے کہ موقع پر پہنچے اور ایف آئی آر درج کرے- میں انتظامیہ کے عہدیداران سے گزارش کروں گا کہ آپ آئین ہند اور قانون سے منسلک ہیں - کسی بھی شخص یا سیاسی پارٹی سے سے وابستہ نہیں ہیں - اتنے دباؤ میں مت آئیے- ہمیں معلوم ہے جس محلہ میں واقعہ رونما ہوا، اسی میں نیمچ کے رکن اسمبلی بھی رہتے ہیں -نیمچ کے رکن اسمبلی رامیشور شرما نے دگوجئے سنگھ کو جواب دیتے ہوئے لکھا، ”جس پر مسجد بنی ہے کیا وہ زمین آپ نے انہیں خرید کر دی ہے- ہنومان جی کا مندر بن رہا ہے تو آپ کو اور مسلمانوں کو کیا اعتراض ہے-
مسجد میں آگ لگی، لگائی یا خود لگائی گئی یہ پولیس تحقیقات کا موضوع ہے، آپ‘جج‘ کیوں بن رہے ہیں -“


Recent Post

Popular Links