جنگ زدہ علاقہ سے تو جیسے تیسے لوٹ آئے- اب تعلیم کس طرح پوری ہوگی؟ یوکرین سے لوٹے طلبا کی پریشانی

RushdaInfotech March 7th 2022 urdu-news-paper
جنگ زدہ علاقہ سے تو جیسے تیسے لوٹ آئے- اب تعلیم کس طرح پوری ہوگی؟ یوکرین سے لوٹے طلبا کی پریشانی

نئی دہلی-6مارچ(ایجنسی)روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے درمیان وہاں پھنسے ہندوستانی طلبا وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ اب تک ہزاروں طلبا کی وطن واپسی ہو چکی ہے، تاہم اب بھی بڑی تعداد میں طلبا وہاں پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں مسلسل نکالا جا رہا ہے۔ وطن واپسی کے بعد بھی طلبا کی مشکلیں ختم نہیں ہوں گی کیونکہ وہ بم دھماکوں سے بچ کر تو واپس آ گئے لیکن اب ان کا مسئلہ یہ ہے یہ ان کی تعلیم کس طرح مکمل ہوگی۔ ان میں سے تقریباً 4000طلبا ایسے ہیں جو ایم بی بی ایس کورس کے آخری سال میں تھے۔ اپنی زندگی کے 5 سال اور لاکھوں روپے ایم بی بی ایس کی تعلیم پر خرچ کنے والے ان طلبا کے لیے کوئی آپشن دستیاب نہیں ہے۔ایک شخص جس کے دو بیٹے یوکرین میں میڈیکل کے طالب علم ہیں، اس نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ یوکرین سے واپس آنے والے طلبا کو ہندوستان کے کالجوں میں داخلہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو والدین اپنے بچوں کو یوکرین بھیجیں گے اور نہ ہی اب وہاں تعلیم کے لیے سازگار ماحول ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسے طلبہ کے مستقبل کا کیا بنے گا؟ اس معاملے پر مرکزی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ملک میں طبی تعلیم کے ماہر اور سرپرست دیش راج اڈوانی کہتے ہیں کہ طلبا کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بات تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ کس طالب علم نے کس یونیورسٹی سے کتنے سالوں کی تعلیم حاصل کی ہے اور آخری سمسٹر میں اس کی کارکردگی کیسی تھی۔ اڈوانی کے مطابق، ان طلبا کے پاس یوکرین میں حاصل کی گئی اپنی جزوی تعلیم کا ٹھوس عارضی ثبوت بھی نہیں ہے۔اگرچہ ایسے عارضی ثبوت کو بہرحال تسلیم نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ کم از کم ان طلبا کے اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے، جنہیں امید ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے واپس جا سکیں گے۔ لیکن یوکرین میں اگر جنگ جلد ختم بھی ہو جاتی ہے تو بھی ہر طالب علم کے لیے یوکرین واپس جانا اور اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا۔وہیں، یوکرین میں پھنسے طلبا نے ہندوستان واپس آنے کے بعد راحت کی سانس لی ہے۔ ایک طالب علم نے کہا کہ واپس آ کر بہت اچھا لگ رہا ہے، پہلے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ ہم یہاں تک پہنچ پائیں گے لیکن اب یہاں پہنچ کر خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ میں حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔یوکرین سے واپس آنے والے ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ یوکرین میں 24 فروری کی صبح جنگ شروع ہوئی، جس کے بعد مسائل شروع ہوئے، کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہو گئی۔ ہم 6 دن تک بنکر میں رہے، 28 فروری کو ہم نے خارکیف چھوڑا اور آج ہم یہاں واپس آئے ہیں۔


Recent Post

Popular Links