مذہبی شدت پسندی کا جنون ملک کو تباہ کردے گا وقت آگیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ اسکول اورکالج کھولے جائیں:مولانا ارشدمدنی

RushdaInfotech February 26th 2022 urdu-news-paper
مذہبی شدت پسندی کا جنون ملک کو تباہ کردے گا وقت آگیا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کیلئے الگ الگ اسکول اورکالج کھولے جائیں:مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی-25فروری (یو این آئی) ملک میں جاری مذہبی شدت پسندی اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کے خطرناک کھیل کی مذمت کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہندکے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مذہبی شدت پسندی کا یہ جنون ملک کو تباہ کردے گا،اب وقت آگیاہے کہ لڑکے اورلڑکیوں کیلئے الگ الگ اسکول اور کالج کھولے جائیں -یہ بات انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کی صدارت کرتے ہوئے کہی- اس اجلاس میں مولانا ارشد مدنی نے دستوراساسی کی دفعہ 44کے تحت نئے ٹرم کے صدر کا عہدہ سنبھالا- اسی کے ساتھ موجودہ مجلس عاملہ تحلیل کر دی گئی- اب دستور کے مطابق صدر نئی مجلس عاملہ نامزدکرکے بمشورہ عاملہ ناظم عمومی نامزد کریں گے -اسی کے ساتھ عنقریب ہونے والے مجلس منتظمہ کے ہونے والے اجلاس میں نائبین صدور و خازن کا انتخاب ہو گا-عاملہ کی اس میٹنگ میں ملک کے موجودہ حالات اور قانون وانتظام کی تشویشناک صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ساتھ ہی دوسرے اہم ملی و سماجی ایشوز اور عصری تعلیم،لڑکے اور لڑکیوں کیلئے اسکول اور کالج کا قیام خاص طور پر لڑکیوں کیلئے دینی ماحول میں تعلیمی ادارے کا قیام اور اصلاح معاشرہ کے طریقہ کار نیز دفتری وجماعتی امورپر تفصیل سے غور و خوض ہوا- صدر جمعیۃ علماء ہند نے عاملہ کی میٹنگ میں کہا کہ مذہب کے نام پر کسی بھی طرح کا تشدد قابل قبول نہیں ہو سکتا، مذہب انسانیت، رواداری، محبت اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے اس لئے جو لوگ اس کا استعمال نفرت اور تشدد برپا کرنے کیلئے کرتے ہیں وہ اپنے مذہب کے سچے پیروکار نہیں ہوسکتے ہیں اور ہمیں ہر سطح پر ایسے لوگوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے -نفرت اور فرقہ پرستی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بیشتر سیاستدانوں میں نفرت کی تخم ریزی کر کے اقتدار حاصل کرنے کی ہوس شدید تر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے فرقہ پرستی اور مذہبی شدت پسندی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے -بعض سیاست دان اکثریت کو اقلیت کے خلاف صف آراء کرنے کیلئے مذہبی شدت پسندی کا سہارا لینے لگے ہیں تاکہ آسانی سے اقتدار حاصل کر سکیں اورحکمرانوں نے ڈر اور خوف کی سیاست کو اپنا شعار بنا لیا ہے لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ حکومت ڈر اور خوف سے نہیں بلکہ عدل و انصاف سے ہی چلا کرتی ہے - آج ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ ملک کسی خاص مذہب کے نظریے سے چلے گا یا سکیولرزم کے اصولوں پر- انہوں نے کہا کہ حالات بہت دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں ایسے میں ہمیں متحد ہو کر میدان عمل میں آنا ہوگا-مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارا اختلاف اور ہماری لڑائی کسی سیاسی پارٹی سے نہیں صرف ان طاقتوں سے ہے جنہوں نے ملک کے سکیولر قدروں کو پامال کرکے ظلم و جارحیت کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے - عوام کے ذہنوں میں طرح طرح کے غیر ضروری ایشوز بٹھا کر مذہبی جنون پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے مگر امید افزا بات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے - انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات بلاشبہ مایوس کن ہیں لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد انصاف پسند لوگوں کی موجود ہے جو فرقہ پرستی،مذہبی شدت پسندی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف نہ صرف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں بلکہ نڈر ہو کر حق کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ ان فرقہ پرستوں کے خلاف عدالت کا بھی رخ کر رہے ہیں -مولانا مدنی نے کہا کہ پچھلے چند برسوں کے دوران اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا آ رہا ہے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے، نئے نئے تنازعہ کھڑا کر کے مسلمانوں کو نہ صرف اکسانے کی کوششیں ہو رہی ہیں بلکہ انہیں کنارے لگا دینے کی منصوبہ بند شا زشیں ہو رہی ہیں لیکن ان سب کے باوجود مسلمانوں نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ مثال ہے - اس کیلئے ملک کا ایک بڑاانصاف پسند طبقہ انہیں تحسین پیش کر رہا ہے - انہوں نے کہا ہمیں آگے بھی اسی طرح کا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ فرقہ پرست طاقتیں آئندہ بھی مختلف بہانوں سے اکسانے اورمشتعل کرنے کی کوششیں کرسکتی ہیں -انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی میں قربانی دینے والے ہمارے بزرگوں نے جس ہندوستان کا خواب دیکھاتھا وہ ایسی نفرت اورظلم وستم کاہندوستان ہرگزنہیں تھا- ہمارے بزرگوں نے ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا جس میں بسنے والے تمام لوگ نسل برادری اور مذہب سے اوپر اٹھ کر امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں -مولانا مدنی نے کہا کہ تعلیم کے فروغ پر جمعیۃ علماء ہند کی توجہ روز اول ہی سے رہی ہے -
مدارس و مکاتب کے قیام کے ساتھ ساتھ عصری اور ٹیکنیکل تعلیم حاصل کرنے والے غریب اور ضرورت مند طلبہ کو جمعیۃ علماء ہند اور مولانا حسین احمد مدنی چیریٹیبل ٹرسٹ دیوبند2012 سے مسلسل میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہونے والے کو اسکالرشپ فراہم کر رہی ہے اور گزشتہ تعلیمی سال کے دوران 656 طلباء کو تقریبا ایک کروڑ روپے کی اسکالر شپ دی گئی، جس میں ہندو طلبہ بھی شامل ہیں -یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جمعیۃ علماء ہند مذہب کی بنیاد پر کوئی کام نہیں کرتی- اسی اسکیم کے تحت اس سال بھی اسکالرشپ فراہم کی جائے گی-مولامدنی نے کہا کہ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں دینی ماحول میں ہمارے بچے اعلی دنیاوی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں،انہوں نے قوم کے بااثر افراد سے اپیل بھی کی جن کو اللہ نے دولت دی ہے زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ ایسے اسکول و کالج بنائیں جہاں بچے دینی ماحول میں آسانی سے اچھی تعلیم حاصل کرسکیں انہوں نے کہا کہ ہمیں جس طرح مفتی علماء حفاظ کی ضرورت ہے اسی طرح پروفیسر ڈاکٹر انجینئر وغیرہ کی بھی ضرورت ہے بدقسمتی یہ ہے کہ جو ہمارے لئے اس وقت انتہائی اہم ہے اس جانب مسلمان خاص طور پر شمالی ہندوستان کے مسلمان توجہ نہیں دے رہے ہیں آج مسلمانوں کو دوسرے چیزوں پر خرچ کرنے میں تو دلچسپی ہے لیکن تعلیم کی طرف ان کی توجہ نہیں ہے یہ ہمیں اچھی طرح سمجھناہوگا ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ صرف اور صرف تعلیم ہی سے کیا جا سکتا ہے جمعیۃعلماء ہند ملک کے ہر باشندے سے بھی یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے جھوٹے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے دام میں نہ آئیں اور ملک کے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں نیز اپنے آباء و اجداد کی قدیم روایتوں کو نہ چھوڑیں جمعیۃعلماء ہنداس موقع پر ان تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور اداروں سے بھی پرزور اپیل کرتی ہے جو ملک میں سیکولرزم اور قانون کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں وہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہوجائیں - جمعیۃعلماء ہند کا یہ پختہ یقین ہے کہ ملک کی ترقی خوشحالی اور سلامتی کی کلید باہمی اخوت،رواداری اور مذہبی ہم آہنگی میں مضمر ہے اس کے بغیر ہمارا ملک ہندوستان ترقی کے راستے طے نہیں کرسکتا-مجلس عاملہ کی کارروائی میں شرکت کرنے والوں میں مفتی سید معصوم ناظم عمومی جمعیۃعلماء ہند، مولانا عبدالعلیم فاروقی نائب صدرجمعیۃعلماء ہند لکھنو، مولانا اسجدمدنی دیوبند،مولانا عبداللہ ناصربنارس، مولانا اشہد رشیدی مرادآباد، مفتی غیاث الدین حیدرآباد، فضل الرحمن قاسمی ممبئی، اس کے علاوہ بطورمدعوئین خصوصی مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی، مولانا محمد خالد قاسمی ہریانہ، مولانا عبدالقیوم قاسمی مالیگاؤں، مولانا حبیب الرحمن قاسمی جودھپور، مولانا محمد راشدراجستھان، مولانا بدراحمد مجیبی پٹنہ، شامل تھے - یو این آئی- ع ا-


Recent Post

Popular Links