میکے داٹو پدیاترا: ریاستی حکومت اور کانگریس کو کرناٹک ہائی کورٹ کی لتاڑ یاترا کو روکنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر ڈیویژنل بنچ سخت برہم، فریقوں کو نوٹس جاری

RushdaInfotech January 13th 2022 urdu-news-paper
میکے داٹو پدیاترا: ریاستی حکومت اور کانگریس کو کرناٹک ہائی کورٹ کی لتاڑ یاترا کو روکنے میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر ڈیویژنل بنچ سخت برہم، فریقوں کو نوٹس جاری

بنگلورو12/جنوری(سالار نیوز) کرناٹک میں خاص طور پر شہر بنگلورو میں کورونا کے کیسوں میں اضافہ کی شکایت کے درمیان کانگریس کو میکے داٹو سے بنگلورو تک پدیاترا نکالنے کی اجازت دینے پر کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو اور ساتھ ہی یاترا کا اہتمام کرنے پر کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اس یاترا کو روکنے کی اپیل کرتے ہوئے درج کی گئی ایک مفادعامہ عرضی کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس رتو راج اوستھی کی قیادت والی بینچ نے سرکاری وکیلوں سے سوال کیا کہ کانگریس کو یاترا کا اہتمام کرنے کی اجازت کس نے دی۔ اگر اجازت نہیں دی تو اس کوروکنے کے لئے کارروائی کرنے میں کیا رکاوٹ تھی۔کیا کارروائی کرنے کے لئے بھی حکومت کو عدالت سے ہی ہدایت دینی پڑے گی؟۔اسی طرح کے پی سی سی سے عدالت نے سوال کیا ہے کہ کیا اس نے پدیاترا کے لئے انتظامیہ سے اجازت لی ہے؟۔یاترا کے دوران حکومت کی طرف سے جاری کووڈ صابطہ کی پابندی کس حد تک کی گئی ہے؟ یاترا کے دوران کووڈ ضابطہ کی پامالی کو روکنے کے لئے کے پی سی سی نے کیا قدم اٹھائے ہیں؟۔عدالت نے اس معاملہ کی سماعت کو 14جنوری تک ملتوی کردیا ہے۔ عدالت نے اس یاترا کو روکنے کے معاملے میں حکومت کی بے بسی پر سوال اٹھایا ہے۔ عدالت نے حکومت اور کے پی سی سی سے کہا ہے کہ دو دن کے اندر عدالت کو اس کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیں۔ حکومت کی طرف سے پیش ہو کر اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سبرمنیانے بتایا کہ یاترا کے خلاف حکومت نے تین الگ الگ ایف آئی آر درج کئے ہیں۔ اس پر بہمی بینچ نے وکیل سے سوال کیا کہ یاترا کو روکا کیوں نہیں گیا؟۔کیا عدالت کے حکم تک حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔اس دوران عدالت کی سخت لتاڑ کے بعد اس یاترا کوروکنے کے سلسلہ میں وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کے وزیر داخلہ اور دیگر اعلیٰ افسروں کے ساتھ ورچیول میٹنگ کی۔ ڈی جی پی پروین سود، محکمہ داخلہ کے دیگر اعلیٰ افسروں کے ساتھ اس بارے میں وزیر داخلہ نے تبادلہ خیال کیا۔
سدارامیا کا ر د عمل: اس دوران کرناٹک ہائی کورٹ کی طرف سے یاترا کے متعلق سخت تبصروں کے بارے میں ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے کہا کہ عدالت کی طرف سے اگر پدیاترا کو روکنے کا حکم دیا جاتا ہے توعدالت کے فیصلہ کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر یاترا کو روک دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں اس معاملہ میں عدالت کیا فیصلہ لے گی۔ جب قطعی فیصلہ سامنے آئے گا اس پر عمل کیا جائے گا۔


Recent Post

Popular Links