عرب دنیا میں بھوک میں اضافہ: 2020میں تقریباً7کروڑافرادغذائی قلت کا شکار:اقوام متحدہ

RushdaInfotech December 18th 2021 urdu-news-paper
 عرب دنیا میں بھوک میں اضافہ:  2020میں تقریباً7کروڑافرادغذائی قلت کا شکار:اقوام متحدہ

دبئی-17دسمبر (ایجنسی) اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت42کروڑ نفوس پر مشتمل عرب دنیا میں ایک تہائی افراد کے پاس کھانے کیلئے کافی خوراک دستیاب نہیں،جبکہ گذشتہ سال 6کروڑ90 لاکھ سے زیادہ افراد غذائی قلت کا شکار ہوئے تھے- اقوام متحدہ کے تحت عالمی ادارہ خوراک وزراعت (ایف اے او) نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2019سے2020 کے درمیان عرب دنیا میں غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد48لاکھ افراد سے بڑھ کر6کروڑ90 لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور یہ تعداد کل آبادی کا قریباً16فی صد ہے-ایف اے او نے کہا کہ کم غذائیت کی سطح میں اضافہ تمام آمدنی کی سطحوں، تنازعات سے متاثرہ اورغیرتنازع والے ممالک، دونوں میں ہوا ہے-اس کے علاوہ2020 میں قریباً14کروڑ10لاکھ افراد کو مناسب خوراک تک رسائی حاصل نہیں تھی اوراس تعداد میں 2019سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ افراد کا اضافہ ہوا ہے-رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ کی وَبا نے”ایک اور بڑا جھٹکا“دیا ہے،2019 کے مقابلے میں خطے میں تغذیہ سے محروم افراد کی تعداد میں 48لاکھ کا اضافہ ہوا ہے-تنازعات سے متاثرہ صومالیہ اور یمن گذشتہ سال بھوک سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک تھے-تقریباً60فی صد صومالی بھوک کا شکار تھے اور45 فی صد سے زیادہ یمنی کم خوراکی سے دوچار تھے-رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2020 میں یمن میں خون کی کمی کا سب سے زیادہ پھیلاؤ ہوا تھا-اس سے تولیدی عمر کی61.5فی صد خواتین متاثرہوئی تھیں -ایف اے او نے کہا کہ گذشتہ دودہائیوں کے دوران میں عرب دنیا میں بھوک میں 91۰1 فی صد اضافہ ہوا ہے-اس کے علاوہ2020میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں بڑھوتری کی شرح (20.5 فی صد) سست رفتاراور زیادہ وزن (10.7 فی صد) کی شرح زیادہ تھی-بالغوں میں موٹاپے کی شرح خاص طورپرامیرعرب ریاستوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے-عرب خطے کیلئے سال کے تازہ تخمینے سے پتاچلتا ہے کہ بالغ آبادی کا28.8فی صد موٹاپے کا شکار تھا-یعنی موٹاپے کا شکارافراد کی تعداد عالمی اوسط 13.1فی صد سے دُگنا ہے-نیزخطے میں زیادہ آمدن والے ممالک میں بالغوں میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے جبکہ کم آمدن والے ممالک میں سب سے کم سطح تھی-


Recent Post

Popular Links