آج سے پارلیمان کا سرمائی اجلاس- حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت ٹکراؤ کا امکان

RushdaInfotech November 29th 2021 urdu-news-paper
آج سے پارلیمان کا سرمائی اجلاس- حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت ٹکراؤ کا امکان

نئی دہلی-28نومبر (یو این آئی) حکومت اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کیلئے اپنی اپنی حکمت عملی تیارکرلی ہے - حکومت کی تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرنے کے باوجود اپوزیشن کے تیور تیکھے نظر آرہے ہیں - اپوزیشن کے تیکھے رویے کو دیکھتے ہوئے حکومت کیلئے پارلیمنٹ کا اجلاس خوش اسلوبی سے چلانا آسان نہیں ہوگا- پیر سے شروع ہونے والا سرمائی اجلاس 23دسمبر تک جاری رہے گا اور اس کی20نشستیں ہوں گی-5ریاستوں کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہونے والے پارلیمانی اجلاس کو سیاسی نقطہ نظر سے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے - دونوں فریق اپنے اپنے طریقے سے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہر طرح کے حربے اپنانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے - کورونا وبا کے باعث گزشتہ سال سرمائی اجلاس نہیں ہوسکا تھا تاہم اس حوالے سے کورونا پروٹوکول کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس بلایا گیا ہے - پارلیمنٹ کے اجلاس کے پیش نظر گزشتہ چند دنوں سے اقتدار اور اپوزیشن کی گلیاروں میں سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں اور جہاں اپوزیشن مختلف ایشوز پر حکومت کو گھیرنے کی تیاریاں کر رہی ہے وہیں حکومت اپوزیشن کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام تیراپنے ترکش میں جمع کررہی ہے -اپوزیشن جماعتوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسانوں، زراعت، ایم ایس پی کو قانونی شکل دینے، مہنگائی، پٹرول ڈیزل کی قیمت، بے روزگاری، پیگاسس، کورونا، تریپورہ تشدد اور بی ایس ایف کے دائرہ اختیار جیسے مسائل پر حکومت کو گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی- اپوزیشن کا اصرار ہے کہ وہ حکومت سے مندرجہ بالا مسائل سمیت ہر سلگتے ہوئے موضوع پر سوال کرے گی اورحکومت کی ناکامیوں کو ملک کے سامنے رکھے گی- اپوزیشن بھلے ہی متحرک نظر نہ آئے، لیکن مختلف سیاسی جماعتیں اپنے مسائل پر سخت موقف اختیار کر رہی ہیں اور وہ پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ملک کے اعلیٰ ترین ادارے میں اپنا نقطہ نظر اٹھانے کا موقع نہیں گنوائیں گی- اس کو آل پارٹی میٹنگ کے درمیان میں عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ کے بائیکاٹ سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے -حکومت بھی اپوزیشن کے حملوں کو ناکام بنانے اور زیادہ سے زیادہ قانون سازی کے معاملات طے کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے - حکومت نے گڈ گورننس اور ترقی کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے 25سے زیادہ بلوں کو فہرست زد کیا ہے - ان میں متنازعہ زرعی قوانین کی واپسی سے متعلق بل کے علاوہ، کرپٹو کرنسی سے متعلق بل، بجلی کا ترمیمی بل 2021، پنشن ریفارم بل، دیوالیہ پن اور دیوالیہ پن کا کا دوسرا ترمیمی بل 2021، توانائی کے تحفظ کا ترمیمی بل 2021اور ثالثی بل 2021وغیرہ شامل ہیں -حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قواعد کے تحت اسپیکر کے منظور کردہ ہر معاملے پر بحث کیلئے تیار ہے تاہم اپوزیشن کو ایوان میں ہنگامہ آرائی سے باز آنا ہوگا- کل جماعتی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا ہے کہ مختلف جماعتوں نے کئی تجاویز دی ہیں اور حکومت ان پر غور کرے گی- تاہم ساتھ ہی وہ اپوزیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلنے دیا جائے - حکومت کی حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کس حد تک اپوزیشن کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوتی ہے تاکہ ایوان میں زیادہ سے زیادہ کام کاج کیا جاسکے - ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ شہ اور مات کے اس کھیل میں وہ کتنی جماعتوں کو براہ راست اور کتنے بالواسطہ ان کو اپنی حمایت میں لا کر زیادہ سے زیادہ بل پاس کروانے میں کامیاب ہوتی ہے -اپوزیشن نے مانسون اجلاس میں مختلف مسائل پر ہنگامہ برپا کر دیا تھا اور کوئی قابل ذکر کام نہیں ہو سکاتھا-کیونکہ کارروائی میں خلل پڑا- ہنگامہ آرائی کے درمیان حکومت نے بہت سے اہم بلوں کو جلد بازی میں منظور کرواتے ہوئے دونوں ایوانوں کی کارروائی مقررہ وقت سے پہلے ملتوی کر دی تھی-


Recent Post

Popular Links