کورونا ضابطہ کی آڑ میں آزادیئ اظہارپرحملہ دنیا کی بیشتر حکومتوں پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام

RushdaInfotech October 20th 2021 urdu-news-paper
کورونا ضابطہ کی آڑ میں آزادیئ اظہارپرحملہ دنیا کی بیشتر حکومتوں پرایمنسٹی انٹرنیشنل کا الزام

لندن-19/اکتوبر (آئی این ایس) ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بہت سی حکومتوں نے کورونا کی وبا کو آزادی اظہار پر مزید پابندیاں عائد کرنے کیلئے استعمال کیا ہے۔ رپورٹ میں غلط معلومات پھیلانے کے حوالے سے سوشیل میڈیا کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی جابرانہ حکومتیں آزادی رائے اور میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگانے کیلئے کورونا وائرس کی وبا کا ہتھیار کے طورپر استعمال کرتی رہی ہیں۔ اس ضمن میں اس نے بعض حکومتوں کے اقدام کا حوالہ بھی دیا ہے۔عالمی تنظیم نے اس حوالے سے اپنی رپورٹ کو ’سائلینسڈ اینڈ مس انفارمڈ: فریڈم آف ایکسپریشن ان ڈینجر ڈیورنگ کووڈ‘کا نام دیا ہے۔یعنی یہ رپورٹ کووڈ کی وبا کے دوران خاموش کرانے اور غلط معلومات پھیلانے جیسے خطرات پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا بھر کی ان حکومتوں کے اعلان کردہ ایسے متعدد اقدامات کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت2020 میں آزادی اظہار پر غیر معمولی پابندیاں عائد کی گئیں۔تنظیم میں شعبہ ریسرچ اور ایڈوکیسی پالیسی کے سینئر ڈائریکٹر رجت کھوسلہ کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ کے چینلوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، سوشیل میڈیا کو سینسر کیا گیا اور بہت سے میڈیا اداروں کو تو بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مناسب معلومات کی کمی کے سبب بہت سی زندگیوں کے بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ایمنسٹی کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے وہ حکومتیں جو ایک طویل عرصے سے سخت قوانین کی مدد سے عوام میں بتائی جانے والی چیزوں پر سخت کنٹرول رکھتی ہیں، انہوں نے تنقید کو خاموش کرنے، بحث و مباحثے اور معلومات ایک دوسرے سے شریک کرنے پر کنٹرول کیلئے سینسر قوانین کے نفاذ کیلئے وبا کو ایک اور بہانے کے طور پر استعمال کیا ہے۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض دوسری حکومتوں نے وبائی امراض سے پیدا ہونے والی صورت حال اور پریشانیوں کو ایسے ہنگامی اقدامات اپنانے اور نئے قوانین وضع کرنے کیلئے استعمال کیا، جو نہ صرف غیرمناسب ہیں بلکہ غلط معلومات جیسے مسائل سے نمٹنے میں بھی غیر مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین، جہاں 2019 میں سب سے پہلے کورونا وائرس کا انکشاف ہوا تھا، نے فروری2020تک5115/ افراد کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ چینی حکام کے مطابق ان لوگوں پر وبا کی نوعیت اور اس کی حدود کے بارے میں، غلط اور مضر معلومات گھڑنے اور پھر دانستہ طور پر اسے پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ایمنسٹی کے مطابق روس نے بھی جعلی نیوز سے متعلق اپنے قانون میں توسیع کی اور ایسی ترامیم متعارف کروائیں جس کے تحت ہنگامی حالات کے تناظر میں، جان بوجھ کر غلط معلومات کو عوام میں پھیلا نے پر مجرمانہ سزائیں دی جا سکیں۔تنظیم کے مطابق روس نے جعلی نیوز شائع کرنے کے نام پر میڈیا اداروں کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کیلئے قوانین وضع کیے۔ ادارے کا کہنا ہے یہ قدغنیں وبا کے پس منظر میں عائد کی گئی تھیں تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وبا کے خاتمے کے بعد بھی یہ سختیاں برقرار رہیں گی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں سوشیل میڈیا کی اس مہم کو بھی اجاگر کیا ہے کہ کس طرح وہ غلط معلومات پھیلانے کیلئے سہولت کار بنتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس انداز سے مواد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے کہ صارفین کی زیادہ سے زیادہ توجہ اپنی جانب راغب کر کے انہیں مشغول رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں وہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تندہی سے کام نہیں لیتی ہیں۔ تنظیم نے اپنی38صفحے کی رپورٹ میں کہا ہے کہ غلط معلومات کا حملہ آزادیئ اظہار کے حقوق اور صحت کیلئے سنگین خطرہ ہے۔


Recent Post

Popular Links