غیر فعال مقننہ، پارلیمانی جمہوریت کی جڑوں پر وار کرتی ہے نائب صدر نے نئے بھارت کی تعمیر کیلئے آبادیاتی صلاحیت کا بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا

RushdaInfotech September 21st 2021 urdu-news-paper
غیر فعال مقننہ، پارلیمانی جمہوریت کی جڑوں پر وار کرتی ہے نائب صدر نے نئے بھارت کی تعمیر کیلئے آبادیاتی صلاحیت کا بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا

نئی دہلی:20ستمبر(ایجنسی)نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہاہے کہ دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر بھارت کی پارلیمنٹ اور قانون سازوں کو دوسروں کیلئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔دہلی کے نائب صدرکی رہائش گاہ میں دی مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی آف بڑودہ سے سیاسی لیڈر شپ اور گورننس میں ایک سالہ ڈپلومہ کورس کرنے والے طلباء سے بات چیت کرتے ہوئے، اس وقت جب کہ ہم اپنی آزادی کا 75واں سال منا رہے ہیں۔انہوں نے پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور اچھی حکمرانی کے عمل کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔نائب صدر جمہوریہ، جو راجیہ سبھا کے چیئرمین بھی ہیں، نے پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں متواتر رکاوٹوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی غیر فعال مقننہ پارلیمانی جمہوریت کے اصول کی جڑ وں پر حملہ کرتی ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اراکین پارلیمان اور قانون سازوں کو حکومت پر تنقید کرنے کا پورا حق حاصل ہے، نائب صدر جمہوریہ نے زور دیا کہ انہیں کبھی بھی شائستگی،نظم و ضبط اور وقار کی لکشمن ریکھا کو عبور نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ لوگوں کو چار اہم خصوصیات یا Cs-یعنی کردار، طرز عمل، صلاحیت اور استعداد کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزیدکہاہے کہ بدقسمتی سے، ہمارا انتخابی نظام ان چارCs کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ناپسندیدہ چار دیگر Cs— یعنی ذات، برادری، نقدی اور مجرمانہ ذہنیت کے دوسرے سیٹ سے خراب ہو رہا ہے۔وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی ہے کہ نوجوان نہ صرف سیاست میں سرگرم طریقے پردلچسپی لیں بلکہ جوش و خروش کے ساتھ سیاست میں شامل ہوں اور خلوص، نظم و ضبط اور لگن کے ساتھ لوگوں کی خدمت کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مثالی طرز عمل،نظریہ سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ، بدقسمتی سے، سیاست سمیت تمام شعبوں میں گذشتہ برسوں کے دوران اقدار اور معیارات کا تیزی سے زوال ہوا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ متعدد خرابیوں کے نظام کو صاف کیا جائے جو اس کومتاثر کر رہے ہیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اعلیٰ اخلاقی اقدار و معیار کو فروغ دیا جائے۔مقبول عام پالیسیوں کا خود کو مخالف قرار دیتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ تعلیم، مہارت اور معاش کے مواقع کے ذریعے پسماندہ اور ضرورت مند طبقات کو بااختیار بنایا جانا چاہیے۔ملک میں 35 سال سے کم عمر کی65 فیصد آبادی کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے، نائب صدر جمہوریہ نے اپیل کی کہ تیز تر ترقی اور ایک تازہ دم نئے بھارت کی تعمیر کیلئے نوجوانوں پر مشتمل قوم کی صلاحیتوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے طلباء سے کہاہے کہ مؤثر قیادت ہر شعبے میں ایک ناگزیر ضرورت ہے تاکہ آنے والے برسوں میں بھارت کو مزید بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔


Recent Post

Popular Links