چرنجیت سنگھ چنی ہوں گے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سدھوکے خیمے میں خوشی کی لہر-حلف برداری آج صبح 11بجے

RushdaInfotech September 20th 2021 urdu-news-paper
چرنجیت سنگھ چنی ہوں گے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سدھوکے خیمے میں خوشی کی لہر-حلف برداری آج صبح 11بجے

ایک تیر سے تین نشانے
(1) پنجاب کے 32فیصد دلت ووٹ پر نظر
(2) رندھاواکے نام پر ناراض سدھو کو خوش کیا
(3) بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے وزیراعلیٰ کا توڑنکالا

نئی دہلی-19ستمبر(ایجنسی) کانگریس نے کیپٹن امریندر سنگھ کے استعفے کے بعد پنجاب حکومت میں کابینہ وزیر رہے چرنجیت سنگھ چنی کو ریاست کا نیا وزیر اعلیٰ بنانے کا اعلان کردیا ہے، پنجاب کانگریس کے انچارج ہریش راوت نے ٹوئٹ کر کے اتوار کے روز یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ چرنجیت سنگھ چنی کو متفقہ طور پر کانگریس قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیا گیا ہے-پیر کی صبح 11بجے حلف برداری کی تقریب منعقد کئے جانے کا امکان ہے -اس اعلان کے بعد سدھو کے خیمے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ چرنجیت سنگھ چنی سدھو کی پہلی پسند ہے -کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے چرنجیت سنگھ چنی کو مبارکباد دی ہے- انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ "شری چرنجیت سنگھ چننی جی کو ان کی نئی ذمہ داری کیلئے مبارکباد- ہمیں پنجاب کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرتے رہنا ہے اس کا بھروسہ سب سے اہم ہے-چرنجیت سنگھ چنی پنجاب کے ایک مقبول دلت لیڈر ہیں اور وہ چمکور صاحب اسمبلی حلقہ سے رکن ِ اسمبلی ہیں - وہ امریندر حکومت میں کابینہ سطح کے تکنیکی تعلیم کے وزیر رہے ہیں - چرنجیت چننی 2007 سے پنجاب اسمبلی کے رکن ہیں اور وہ رام داسیہ سکھ برادری سے تعلق رکھتے ہیں - یہ پنجاب کی دلت برادری ہے اور کانگریس نے پنجاب میں دلت برادری تک رسائی اور تمام طبقات کو ساتھ لینے کی کوشش کرتے ہوئے چرنجیت چننی کو یہ ذمہ داری سونپی ہے-پنجاب حکومت میں تکنیکی تعلیم کے وزیر رہے چنی بھی تنازعات میں گھرے رہے ہیں - ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2018 میں ایک خاتون آئی اے ایس افسر کو قابل اعتراض پیغام بھیجا تھا، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک تنازعات میں رہے- ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اپنی حیثیت کا استعمال کرتے ہوئے خاتون افسر کی رپورٹ نہیں ہونے دی- کانگریس ہائی کمان گزشتہ دو دنوں سے پنجاب میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں مسلسل میٹنگیں کر رہی تھی- آج صبح جب سینئر لیڈر امبیکا سونی نے وزیراعلیٰ بننے سے انکار کر دیا تو اس کے بعد پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر سونیا گاندھی سمیت پارٹی کے سینئر لیڈروں کی تقریباً پانچ گھنٹے تک میٹنگ جاری رہی- اس سے قبل میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ پنجاب حکومت میں وزیر رہے سکھ ویندر سنگھ رندھاوا کو متفقہ طور پر نیا لیڈر منتخب کیا گیا ہے- یہ خبر آتے ہی ان کے گھر پر مٹھائیاں تک تقسیم کی گئیں، لیکن ان کے نام کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے یہ واضح ہو گیا کہ معاملہ پھنس گیا ہے اور ان کی جگہ کسی اور کو وزیر اعلیٰ بنایا جا رہا ہے-دوسری جانب چرنجیت چننی کی مدد سے کانگریس نے پنجاب میں 32فیصد دلت ووٹ بینک کو نشانہ بنایا ہے- اس کے ساتھ ہی دلت کو نائب وزیراعلیٰ بنانے کا اکالی دل کا انتخابی وعدہ بھی ٹوٹ گیا- بی جے پی نے دلت سی ایم بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا- عام آدمی پارٹی یہ دعویٰ کرتی تھی کہ انہوں نے دلت لیڈر ہرپال چیمہ کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنایا ہے- کانگریس نے اس قدم کے ساتھ تمام پارٹیوں کو سیاسی دھچکا دیا ہے-

 


Recent Post

Popular Links