طالبان اسلحہ چھوڑنے کیلئے تیار تاکہ خواتین اور بچے خوفزدہ نہ ہوں،وزارت امورِخواتین ’نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے‘ میں تبدیل

RushdaInfotech September 20th 2021 urdu-news-paper
طالبان اسلحہ چھوڑنے کیلئے تیار تاکہ خواتین اور بچے خوفزدہ نہ ہوں،وزارت امورِخواتین ’نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے‘ میں تبدیل

کابل-19ستمبر (ایجنسی)افغانستان پر دوبارہ قبضے کے بعد گرچہ کے نرم رویہ کی پالیسی اور اعلان سے طالبان کی شبیہ صاف ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے -لیکن گزشتہ برسوں کی اسلحہ سے مسلح شبیہ ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہے -لوگوں کی نظروں میں ایک خوفناک چہرے والے طالبان نظر آتے ہیں -ایسے موڑ پر طالبان میں سے بعض نے اس خواہش کا اظہارکیاہے کہ وہ خواتین اور بچوں کے دلوں سے خوف کو نکالنے کیلئے اسلحہ چھوڑدیں گے،شرط یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے مطابق لوگ زندگی گزارنا شروع کردیں -اے کے 47 اور ایم 16 سے لیس طالبان کے جنگجوؤں نے جب کابل کے چڑیا گھر میں جھولے جھولے اور وہاں موجود لوگوں سے گھلے ملے تو یہ ان دیہی افغانستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان جنگجوؤں کیلئے ایک بالکل نیا تجربہ تھا- فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے چڑیا گھر میں سیلفیاں لیں اور مختلف انداز میں تصاویر بنوائیں لیکن یہ اطمینان بخش صورتحال اس وقت بدل گئی جب ایک جنگجو نے ہرن کو اس کے سینگ سے پکڑ لیا اور اس کے ساتھی قہقہے لگانے لگے-جمعہ کی نماز کے بعد طالبان کے مسلح جنگجو باہر نکلے جن میں سے کچھ اسلحے کے بغیر بھی تھے اور انہوں نے روایتی ہیٹ، پگڑی اور شال پہن رکھی تھی - طالبان کے ایک ممبر 40 سالہ عبدالقادر جو اب وزارت داخلہ کیلئے کام کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’مجھے جانور واقعی پسند ہیں خاص طور پر وہ جو ہمارے ملک میں پائے جاتے ہیں -انہوں نے کہا کہ طالبان اسلحے کو چھوڑ کر اس جگہ آنے کے حق میں ہیں تاکہ خواتین اور بچے خوفزدہ نہ ہوں -دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکمرانوں نے’نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے‘ کی وزارت قائم کردی جہاں کبھی امورِ خواتین کی وزارت فعال تھی اورعمارت میں موجود عالمی بینک کے عملے کو باحفاظت باہر نکال دیا گیا-رپورٹ کے مطابق کابل پر طالبان کا کنٹرول حاصل ہوئے ایک ماہ کا مختصر وقت گزرا ہے اور اس اقدام کو خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے-90 کی دہائی میں طالبان نے اپنی سابقہ حکومت کے دوران لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم کے حق سے محروم اور انہیں عوامی زندگی سے روک دیا تھا-طالبان کو حکومتی امور فعال رکھنے کیلئے بڑے معاشی بحران اور سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے اور آئی ایس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بڑھتا ہوا چیلنج ان کے وسائل کو مزید بڑھا رہا ہے-کابل میں امور خواتینِ کی وزارت کے باہر ایک نئی تحریر آویزاں تھی کہ جس پر اعلان کیا گیا کہ اب یہ ’تبلیغ اور رہنمائی کی وزارت‘ ہے جہاں سے نیک کام کرنے کی تبلیغ اور برائی سے روکنے کی تلقین کا کام ہوگا-


Recent Post

Popular Links