سپریم کورٹ کے 4 سابق ججوں کا دعویٰ آوازوں کو دبانے کیلئے UAPA اورغداری قانون کاہورہاہے استعمال

RushdaInfotech July 26th 2021 urdu-news-paper
سپریم کورٹ کے 4 سابق ججوں کا دعویٰ  آوازوں کو دبانے کیلئے UAPA اورغداری قانون کاہورہاہے استعمال

نئی دہلی-25جولائی(ایجنسی)سپریم کورٹ کے چار سابق ججوں نے بغاوت قانون اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے خاتمے کی وکالت کرتے ہوئے حکومت پر سخت تنقید کی- ہفتے کے روز چار سابق ججوں نے کہا کہ ان قوانین کا عام طور پر اختلاف رائے کو دبانے اور حکومت سے سوال اٹھانے والی آوازوں کیلئے غلط استعمال کرنے کیا جاتا ہے- یو اے پی اے کے تحت ملزم84سالہ فادر اسٹن سوامی کی حراستی موت کا حوالہ دیتے ہوئے چار سابق ججوں میں سے ایک آفتاب عالم نے کہاکہ یو اے پی اے نے ہمیں قومی سلامتی اور آئینی آزادی دونوں محاذوں پر ناکام بنا دیا ہے -جسٹس عالم اور سابق جج دیپک گپتا، مدن بی لوکور اور گوپال گوڈا نے تبصرہ کیا کہ جمہوریت، اختلاف اور سخت قوانین، کیا یو اے پی اے اور بغاوت قانون کو قانون کی کتابوں میں کوئی جگہ ملنی چاہئے؟ موضوع پرخطاب کیا-جہاں جسٹس عالم نے کہا کہ ایسے معاملات میں مقدمے کی سماعت بہت سے لوگوں کیلئے سزا بن جاتی ہے، جسٹس لوکور کا موقف تھا کہ ان معاملات میں پھنسائے گئے افراد کیلئے جو بعد میں بری ہوجاتے ہیں، ان کیلئے معاوضے کا نظام ہونا چاہئے-اسی خیال سے اتفاق کرتے ہوئے جسٹس گپتا نے کہا کہ ان سخت قوانین کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے- جسٹس گوڈا نے کہا کہ یہ قوانین اب اختلاف رائے کے خلاف ایک ہتھیار بن چکے ہیں اور انہیں منسوخ کرنے کی ضرورت ہے-جسٹس عالم نے کہاکہ یو اے پی اے کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ اس میں سزا کی شرح بہت کم ہے لیکن مقدمات کی شرح زیادہ ہے- یہ عمل ہی سزا بن جاتا ہے-نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ 2019میں، یو اے پی اے کے تحت عدالتوں میں 2361مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے 113مقدمات نمٹائے گئے اور صرف33کو سزا سنائی گئی،64مقدمات میں ملزموں کو بری کردیا گیا- انہوں نے کہا کہ سزا کی شرح 29.2فیصد ہے-


Recent Post

Popular Links