کورونا کی دوسری لہر کو روکنے سخت اقدامات کرناضروری شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں 500 سے زیادہ شرکاء اکٹھا نہیں ہوسکتے۔سدھاکر

RushdaInfotech February 23rd 2021 urdu-news-paper
کورونا کی دوسری لہر کو روکنے سخت اقدامات کرناضروری شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں 500 سے زیادہ شرکاء اکٹھا نہیں ہوسکتے۔سدھاکر

بنگلورو۔22/فروری(سالارنیوز) ریاستی وزیر برائے صحت و میڈیکل تعلیم ڈاکٹر کے سدھاکر نے آج کہا کہ کورونا کی دوسری لہر کو روکنے کے لئے ریاستی حکومت نے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بشمول شادیاں دیگر تقریبات میں زیادہ لوگوں کے اکٹھا ہونے پر نگاہ رکھنے کے لئے مارشلوں کا تقرر کیا گیا ہے۔ریاست بھر میں کورونا کی دوسری لہر کی روک تھام کے سلسلہ میں ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال کرنے کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سدھاکر نے کہا کہ شادیوں اور دیگر تقریبات میں مقررہ حد سے زیادہ لوگوں کے اکٹھا ہونے پر نگاہ رکھنے اور متعلقہ حکام کو فوری اس کی اطلاع دینے کے لئے مارشلوں کا تقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ منعقد ہونے والی شادیوں اور دیگر تقریبات میں سماجی فاصلہ پر عمل اور تمام شرکاء کا ماسک پہننا لاز می ہوگا اور کسی بھی شادی بیاہ میں 500سے زیادہ شرکاء اکٹھا نہیں ہونا چاہئے۔شادی بیاہ کی تقریبات پر نگاہ رکھنے کے لئے شادی محلوں اور دیگر فنکشن ہالوں پر نظر رکھنے مارشلوں کو تعینات کیا جائے گا۔وزیر موصوف نے بتایا کہ بشمول شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں کورونا کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جائے تقریب پر جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ سخت قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بشمول بنگلورسٹی، کلبرگی اور جنوبی کنڑا اضلاع میں کورونا پازیٹیو کی شرح ایک فیصد سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔اب آرٹی پی سی آر ٹسٹ زیادہ کرنے کے لئے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی علاقہ میں 5سے زیادہ کورونا معاملے منظرعام پر آنے پر ان علاقوں کو کنٹائن منٹ زون قرار دیا جائے گا۔ ریاست میں کورونا کی روک تھام میں عوام کو بھی تعاون کرنا چاہئے اورکورونا رہنما خطوط پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ مہاراشٹرا کے اکثر اضلاع میں لاک ڈاؤن کردیاگیا ہے۔ کیا ایسی صورتحال یہاں کرناٹک میں بھی ہونی چاہئے؟ وزیر موصوف نے عوام سے یہ سوال کیا ہے۔ مہاراشٹرا اور کیرلا سے لوگ راست کرناٹک آنے پر پابندی لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔ مذکورہ دو ریاستوں سے آنے والے لوگوں کا لازمی کووڈ ٹسٹ ہونا چاہئے۔اس سلسلہ میں مہاراشٹرا اور کیرلا کے متعلقہ وزراء سے بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


Recent Post

Popular Links