امریکہ کا ایران کے ساتھ مذاکرات کی جانب واپسی کا اعلان

RushdaInfotech February 23rd 2021 urdu-news-paper
امریکہ کا ایران کے ساتھ مذاکرات کی جانب واپسی کا اعلان

واشنگٹن-22فروری(ایجنسی) امریکہ نے آخری مرتبہ جب ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کی کوشش کی تو اسرائیلی حکومت کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا- اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کو بارہا ایک تاریخی غلطی قرار دے چکے ہیں - جمعہ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی طرف واپسی کی کوشش کے اعلان نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطے کے دیگر ممالک میں بھی سخت رد عمل کو جنم دیا ہے جو ایران کے ساتھ فراخ دلانہ قربت کے مخالف ہیں -امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق خطے میں سرگرم ممالک ابھی تک ایران کے ارادوں کے حوالے سے خبردار ہیں - ان ممالک کا موقف ہے کہ وہ اسی صورت میں اس سمجھوتے کو قبول کر سکتے ہیں کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل پروگرام، دیگر ممالک میں مداخلت اور عراق، لبنان اور یمن میں تہران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر روک لگائی جائے-انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رفائل گروسی اور ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کے ارادے پر براہ راست تبصرے سے گریز کیا گیا- بیان کے مطابق اسرائیل اب بھی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر کاربند ہے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے اسرائیل کا موقف تبدیل نہیں ہوا- سماجی امور کے اسرائیلی وزیر تساحی ہنگبی کے مطابق اسرائیلی حکومت بنیادی طور پر مذاکرات کی مخالف نہیں مگر وہ اس معاہدے سے بہتر سمجھوتے کی خواہاں تھی جو 2015ء میں طے پایا- اسرائیل اور خلیجی ممالک نے اس معاہدے کی مذمت کی تھی- اس لیے کہ مذکورہ معاہدے کے تحت ایرانی جوہری سرگرمیوں پر قیود 15 برس کے اندر ختم ہو جائیں گی اور اس سمجھوتے نے مشرق وسطیٰ کے راستے ایران کی عسکری سرگرمی کو محدود کرنے کے واسطے کچھ نہیں کیا-


Recent Post

Popular Links