بھوپال میں نربھیا جیسا حادثہ: وہ میرے جسم کونوچ رہا تھا، میں فریاد کررہی تھی، ریپ کرلو، قتل نہ کرو

RushdaInfotech February 20th 2021 urdu-news-paper
 بھوپال میں نربھیا جیسا حادثہ:  وہ میرے جسم کونوچ رہا تھا، میں فریاد کررہی تھی، ریپ کرلو، قتل نہ کرو

بھوپال-19فروری (ایجنسی) گزشتہ 16 جنوری کو بھوپال کے علاقہ کولار سے تعلق رکھنے والی24سالہ نکی (بدلا ہوا نام) کے ساتھ جے کے اسپتال کے قریب سڑک کے کنارے عصمت دری کی خبر کا انکشاف ہوا ہے - اطلاع کے مطابق جب نکی نے احتجاج کیا تو ملزم نے اس کے سر پر پتھرمارا، دھکا لگنے کے باعث ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی- ایمس میں آپریشن ہوا، 42ٹانکے آئے، لیکن اب وہ حرکت بھی نہیں کرسکتی ہے - پہلی بار متأثرہ خاتون نے مقامی اخبار دینک بھاسکر سے اپنی آپ بیتی سنائی - متأثرہ کے مطابق میں 16جنوری کی شام تقریباً ساڑھے7بجے ہر روز کی طرح ایوننگ واک پر گئی، جے کے اسپتال سے200میٹر آگے نرسری کے پاس ایک لڑکا نمودار ہوا،قریب آتے ہی اس نے زور سے دھکا مارا،میں لڑکھڑ ا کر سڑک کے کنارے گہرے5فٹ گڈھے میں جاکر گرپڑی، جس سے ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی- میں نے جیکٹ اتارنے کی کوشش کی، لیکن اس نے مجھے جھاڑیوں میں دھکیل دیا-وہ میرے جسم کو نوچ رہا تھا، اپنے دانتوں سے کاٹ رہا تھا- وہ زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا- میں بچاؤ کیلئے چیخنے لگی، تو اس نے پتھر اٹھاکرکئی بار سر پر مارا- جس سے میرا دماغ شل ہوگیا، میں سمجھ نہیں پائی کہ میں کیا کروں - ایک لمحہ کیلئے لگا کہ وہ مجھے زندہ نہیں چھوڑے گا، اس لئے میں اسے گڑ گڑا کر فریاد کرنے لگی کہ میرا ریپ کرلو لیکن میری جان بخشی کردو، میں کسی کو نہیں بتاؤں گی، مجھے سانس تو لینے دو، لیکن پتھر تو مت مارو، اس نے5 منٹ تک ہوس پور ی کرتا رہا، میں نے ہیلپ ہیلپ کی آواز لگائی، شکر ہے کہ میری آوازسن کرایک نوجوان اورایک عورت وہاں آئے، انہیں دیکھ کر مجھے ادھ مرا کرکے فرار ہوگیا - متأثرہ کے مطابق، مجھے کچھ ہوش نہ رہا،بس اتنا یا دہے کہ دونوں نے کسی کوفون کرکے بلایا اور کار پر مجھے ایمس لے آئے - میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے، سر پر سخت چوٹ بھی لگی ہے -ڈاکٹروں نے ریڑھ کی ہڈی میں ایک راڈ رکھ دی ہے، آپریشن ہوچکا ہے، لیکن میں اپنی مرضی سے ایک انچ بھی نہیں ہل سکتی - کولار پولیس17جنوری کو ایمس پہنچی- اس نے دنیش کنج چوراہے کے قریب جوس سنٹر پر لگے کیمرے کے ساتھ سی سی ٹی وی ریکارڈ حاصل کیا، جس میں وہ ملزم سامنے سے دھکا دیتا ہوا نظر آتا ہے- پولیس تین دن تک یہی کہتی رہی کہ ملزم کوئی واقف کار ہی ہوگا- لیکن20دن بعد اچانک اس نے بتایا کہ مہابلی نگر کے ایک نوجوان نے اس جرم کا اعتراف کیا ہے- اسے گرفتاربھی کرلیا گیا ہے لیکن آج تک اس شخص کا چہرہ مجھے نہیں دکھایاگیا- میں نے ملزم کی آواز کی آڈیو مانگی ہے تاکہ میں اس کی نشاندہی کر سکوں، لیکن پولیس نے اس کی اطلاع نہیں دی- متأثرہ کے مطابق والدہ نے منگل کے روز وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان سے بھی مدد طلب کی ہے- میں چاہتی ہوں کہ جو درد مجھے ملا ہے، وہی درد ملزم کو بھی دیا جائے -تھانہ کولار کے ٹی آئی سدھیر ارجریہ نے بتایا کہ واقعے کے مقام کے قریب ایک فعال موبائل نمبر ملا ہے، جس کا تعلق ہریانہ کے ایک لڑکے سے تھا- لیکن اس لڑکے کا اس سے کوئی رابطہ نہیں تھا- اس کے بعد ہم نے ایک اور لڑکے کو گرفتار کرلیا، جس کی جانکاری چشم دید گواہ نے دی تھی، ملزم کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے- وہ مہابالی نگر کا رہائشی ہے-


Recent Post

Popular Links