9ویں دورکاکسان مذاکرہ بھی بے نتیجہ تاریخ پہ تاریخ،تاریخ پہ تاریخ،پھر ملی19جنوری کی تاریخ

RushdaInfotech January 16th 2021 urdu-news-paper
9ویں دورکاکسان مذاکرہ بھی بے نتیجہ تاریخ پہ تاریخ،تاریخ پہ تاریخ،پھر ملی19جنوری کی تاریخ

نئی دہلی-15جنوری(ایجنسی)دہلی کے وگیان بھون میں مرکزی وزراء اور کسان لیڈروں کے درمیان 9ویں دور کے مذاکرہ میں بھی ملی تو صرف ایک تاریخ- یعنی مذاکراہ ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہو گیا-اورمذاکرہ کی اگلی تاریخ 19 جنوری طے کردی گئی - ذرائع کے مطابق میٹنگ میں ایک طرف جہاں مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ زرعی قوانین واپس نہیں لیے جائیں گے، وہیں دوسری طرف کسان لیڈروں نے بھی صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ قوانین واپس لینے ہی ہوں گے- جب مودی حکومت کے نمائندوں نے کسان لیڈروں سے پوچھا کہ آپ ہی بتائیے اس تنازعہ کو ختم کرنے کا طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟ اس پر کسان لیڈروں نے کہا کہ صرف دو پوائنٹ ہیں جسے حکومت مان لے تو کسان تحریک ختم ہو جائے گی- پہلا پوائنٹ ہے زرعی قوانین واپس لے لیے جائیں، اور دوسرا پوائنٹ ہے ایم ایس پی پر قانون بنے-بتایا جاتا ہے کہ میٹنگ کے دوران نریندر تومر نے کسان لیڈروں سے گزارش کی کہ وہ لچکدار رخ اختیار کریں تاکہ مسئلہ کا حل نکل سکے- لیکن کسان زرعی قوانین کی واپسی سے کم پر کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہوئے- میٹنگ کے بعد بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت سے ہماری بات چیت ہو رہی ہے اور ہمارے دو ہی پوائنٹس ہیں - تینوں زرعی قوانین واپس لیے جائیں اور ایم ایس پی پر بات کی جائے- ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم عدالت کی کمیٹی کے پاس نہیں جائیں گے، ہم حکومت سے ہی بات کریں گے- ایک دیگر کسان لیڈر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ آج کی میٹنگ میں بھی کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا- نہ زرعی قوانین کی واپسی پر حکومت تیار ہوئی اور نہ ہی ایم ایس پی پر کوئی پیش رفت ہوئی-19جنوری کو ایک بار پھر سے دونوں فریقین کی ملاقات ہوگی-میٹنگ کے بعد نریندر سنگھ تومر نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم نے کسان یونین سے کہا ہے کہ اپنے بیچ میں ایک گروپ بنا لیں، جو لوگ ٹھیک طرح سے قوانین پر غور و خوض کر کے ایک مسودہ بنا کر حکومت کو دیں - ہم اس پر کھلے من سے غور کرنے کے لیے تیار ہیں - ساتھ ہی نریندر تومر نے سپریم کورٹ کے ذریعہ بنائی گئی کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھنے کا بھی تذکرہ کیا- انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کمیٹی بنائی ہے، جب وہ کمیٹی حکومت ہند کو بلائے گی تب ہم اس کمیٹی کے سامنے اپنی بات رکھیں گے- سپریم کورٹ نے جو کمیٹی بنائی ہے وہ بھی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کیلئے ہے-واضح رہے کہ کسان تحریک دن بہ دن تیز ہوتی جا رہی ہے اور دہلی کی سرحدوں پر گزشتہ51 دنوں سے ہزاروں کی تعداد میں کسان اور ان کے حامی ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں - مودی حکومت ہر طرح سے کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کسان لیڈرس قوانین کی واپسی کیلئے بضد ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ قوانین واپس نہیں لیے جاتے تو ان کی آنے والی نسل پوری طرح تباہ ہو جائے گی-
کسان مخالف ان قوانین کی کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی مخالفت کر رہی ہیں اور ان متنازعہ قوانین کو لے کر کئی پارٹیاں تو این ڈی اے سے بھی علاحدہ ہو چکی ہیں -


Recent Post

Popular Links