مجبوری میں ہم بھینس کا گوشت فروخت کررہے ہیں۔دکاندار کرناٹک میں بھینسوں کی پیداوار اور استعمال کا روج کم،دکانداروں کوعدالت سے راحت کا انتظار

RushdaInfotech January 13th 2021 urdu-news-paper
مجبوری میں ہم بھینس کا گوشت فروخت کررہے ہیں۔دکاندار کرناٹک میں بھینسوں کی پیداوار اور استعمال کا روج کم،دکانداروں کوعدالت سے راحت کا انتظار

بنگلورو۔12/جنوری (خصوصی رپورٹ)ریاست کرناٹک میں گؤکشی نافذ ہونے کے بعد مسلسل تین دنوں تک بیف مارکیٹس اور مختلف علاقوں میں بیف کی دکانیں اور پھال اور سیخ کی دکانیں بند ہوگئی تھیں۔اس قانون میں 13سال سے زیادہ عمر کی بھینس کے ذبیحہ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔آج سے گنے چنے دکاندار بھینس کا گوشت فروخت کرنے لگے ہیں اور اکا دکا دبھینس کی پھال اورسیخ کی دکانیں بھی کھل گئی ہیں۔اس سلسلہ میں جب نمائندہ سالار نے چند بڑے گوشت کی مارکیٹوں کامعائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ جانسن مارکیٹ میں بھینس کی گوشت کی صرف تین دکانیں کھلی ہیں جبکہ شیواجی نگر بیف مارکیٹ میں تقریباً 50دکانوں میں سے صرف 7دکانیں کھلی ہیں۔ان دکانوں میں فی کلو گوشت 300تا 350روپئے میں فروخت ہورہا ہے۔چند علاقوں میں فی کلو گوشت 400روپئے میں بھی فروخت کیا جارہا ہے۔جب ان دکانداروں سے ہم نے بات کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ بیف میں جو لذت اور برکت ہے وہ بھینس کے گوشت میں نہیں۔ بھینس میں زیادہ چربی ہوتی ہے۔گاہک اس کو لینا پسند نہیں کرتے۔ ہمیں فی کلوگوشت 260تا 280 روپئے کے عوض چربی ہڈی سمیت فراہم کیا جاتا ہے، ہم اس کو ہڈی والا گوشت تین سو اور بغیر ہڈی والا 350روپئے میں فروخت کرتے ہیں۔ایک بھینس میں تقربیاً دس کلو چربی ہوتی ہے۔اگر ہم اس کو نکال دیں تو زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔مجبوری میں ہم بھینس کا گوشت فروخت کررہے ہیں۔کیونکہ کرناٹک میں اکثر گوشت خور اس کو کھانا پسند نہیں کرتے اور سرد مزاج کے گوشت کے زیادہ استعمال سے لوگ ڈرتے ہیں۔بزرگوں کے لئے اس کا استعمال مضر ہے، ہم اس انتظار میں ہیں کہ کب ہائی کورٹ سے ہمیں راحت ملے اور بیف کا کاروبار بحال ہوجائے۔حالانکہ کرناٹک میں بھینسوں کی پیداوار کم ہے اور لوگ بھینس کا گوشت کھانے کے عادی نہیں۔اس کے باوجود پھال اور سیخ فروخت کرنے والے چند دکاندار بھی مجبوری کی حالت میں بھینس کی پھال، سیخ اور کباب فروخت کررہے ہیں۔انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ گاہک جس طرح بیف پسند سے کھاتے ہیں بھینس کے یہ لوازمات ایک دو مرتبہ کھانے کے بعد تیسری مرتبہ کھانا پسند نہیں کرتے اور کتراتے ہیں۔ شیواجی نگر بیف مارکیٹ کے سامنے جہاں درجنوں پھال سیخ کی دکانیں ہوا کرتی تھیں، یہاں آج صرف تین دکانداروں کو بھینس کے لوازمات فروخت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایک گرل پھال70روپئے اور ایک کاڑی سیخ35روپئے میں فروخت کی جارہی تھی۔برڈ فلو کی وجہ سے لوگ چکن کھانے سے بھی کترا رہے ہیں۔حالانکہ شیواجی نگر کے مارکیٹ میں فی کلو زندہ مرغی91روپئے میں اور ڈریسڈ چکن فی کلو130روپئے میں فروخت ہورہی ہے۔ اس کے باوجود چکن خریدنے والے گاہکوں کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے۔ان حالات میں گوشت خور بکرے کے گوشت (مٹن) کا رخ کریں گے۔اس وقت فی کلو مٹن670روپئے تا 700روپئے میں فروخت ہورہا ہے۔مٹن کا زیادہ مطالبہ شروع ہوگیا تو یہی مٹن فی کلو800تا 1000 روپئے تک مہنگا ہوسکتا ہے۔ اگر کرناٹک میں بیف کا کاروبار جلد بحال نہ ہوسکا تو درمیانی اورغریب طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کا انعقاد زیادہ مہنگا ہوجائے گا۔


Recent Post

Popular Links