کسانوں کو مظاہرہ کرنے سے نہیں روکاجاسکتا مسائل کا حل آپ نکالیں گے یا ہم اسٹے لگادیں:سپریم کورٹ

RushdaInfotech January 12th 2021 urdu-news-paper
کسانوں کو مظاہرہ کرنے سے نہیں روکاجاسکتا مسائل کا حل آپ نکالیں گے یا ہم اسٹے لگادیں:سپریم کورٹ

نئی دہلی -11جنوری (ایجنسی) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت نہ ہونے پر نہ صرف تشویش کا اظہار کیابلکہ پھٹکاربھی لگائی-کورٹ نے مرکزی حکومت سے دریافت کیا ہے کہ تینوں قوانین پر پابندی کیوں نہیں لگائی جائے -سماعت کے دوران چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رماسبرامنیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ تینوں قوانین پر اس وقت تک روک لگادی جائے جب تک عدالت کے ذریعہ تشکیل کمیٹی اس پر غور نہ کرلے اور اپنی رپورٹ نہ سونپ دے -حالانکہ اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے قوانین کو روکنے کے عدالت کے مشورہ کی سخت مخالفت کی-جسٹس بو بڈے نے دریافت کیا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ کیا آپ کسانوں کے قوانین پر پابندی عائد کرتے ہیں یا ہم لگائیں - ان قوانین کو ملتوی کیجئے - اس میں کیا مسئلہ ہے؟ ہم اسے آسانی سے روکنے کے حق میں نہیں ہیں، لیکن ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت اس قانون کو نفاذ نہ کریں -عدالت نے کہا کہ کچھ کسانوں نے خودکشی کی ہے، بوڑھے مرد اور خواتین اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں - آخر ہوکیا رہا ہے؟ آج تک ایک بھی درخواست دائر نہیں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ زرعی قوانین اچھے ہیں -”چیف جسٹس نے مرکزی حکومت اور کسانوں کے درمیان مذاکرات پر کسی پیشرفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتیق ہوئے کہا کہ کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے 8دور ہوچکے ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی - جب کہ اگلی میٹنگ15جنوری کو طے ہے -طویل بحث کے بعد اٹارنی جنرل نے بنچ سے جلد بازی میں کوئی حکم پاس نہ کرنے کی درخواست کی، لیکن جسٹس بوبڈے نے اس پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر اٹارنی جنرل آپ ہمیں صبر سے متعلق لیکچر نہ دیں - ہمیں جلدبازی میں کیوں نہ روک لگانی چاہئے؟چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت جس طرح معاملے کو سنبھال رہی ہے اس سے ہم خوش نہیں ہیں - ہم نہیں جانتے کہ قانون پاس کرنے سے پہلے آپ نے کیا کیا- گزشتہ سماعت میں بھی کہا گیا کہ کسانوں سے بات چیت جاری ہے، کیا ہو رہا ہے؟ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی یہ دلیل نہیں چلے گی کہ اسے کسی اور حکومت نے شروع کیا تھا- عدالت نے پوچھا کہ آپ اس معاملے کا کس طرح حل نکال رہے ہیں؟عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسان احتجاج کر رہے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کمیٹی اس کو حل تلاش کرے- ہم کسی کا خون اپنے ہاتھ پر نہیں لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی ہم کسی کو مظاہرہ کرنے سے منع کرسکتے ہیں -


Recent Post

Popular Links